Friday, September 18, 2026
FB
راکب مختار
ادیب

راکب مختار

Rakib Mukhtar
پیدائش: 22 Jan 1987 Shorkot, Jhang District, Punjab, Pakistan
1 ویوز
2026 شامل شد

تعارف

ابتدائی زندگی اور شناخت



راکب مختار عصرِ حاضر کے پاکستانی اردو شاعر ہیں۔ معتبر ادبی ماخذ ریختہ کے مطابق ان کا اصل نام عابد حسین ہے، جبکہ وہ ادبی دنیا میں راکب مختار کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ ریختہ کے پروفائل میں ان کا سنِ پیدائش 1987 درج ہے اور جائے پیدائش شورکوٹ، پنجاب بیان کی گئی ہے۔ ریختہ انہیں شاعر کے طور پر درج کرتا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق راکب مختار کا تعلق ضلع جھنگ کے علاقے شورکوٹ سے ہے۔ سلام اردو کے مصنفانہ پروفائل میں بھی ان کا سنِ پیدائش 1987، تعلیم میٹرک اور تعلق تحصیل شورکوٹ، ضلع جھنگ، پنجاب سے درج ہے۔ ان معلومات میں مکمل تاریخِ پیدائش یا پیدائش کی کسی مخصوص بستی کا نام فراہم نہیں کیا گیا، اس لیے اس سے آگے کوئی غیر مصدقہ تفصیل شامل نہیں کی جا رہی۔

تعلیم



راکب مختار کی تعلیم کے بارے میں دستیاب نسبتاً واضح معلومات سلام اردو کے پروفائل سے ملتی ہیں، جہاں ان کی تعلیمی قابلیت میٹرک درج کی گئی ہے۔ ان کی اعلیٰ تعلیم، تعلیمی ادارے یا کسی مخصوص ڈگری کے بارے میں قابلِ اعتماد ذرائع میں ایسی معلومات سامنے نہیں آئیں جنہیں اس پروفائل میں یقینی طور پر شامل کیا جا سکے۔

ادبی سفر



راکب مختار کی بنیادی ادبی شناخت اردو شاعری، بالخصوص غزل، کے حوالے سے سامنے آتی ہے۔ ریختہ پر ان کے نام سے متعدد غزلیں محفوظ ہیں، جن میں "حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے"، "میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے"، "عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں"، "چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی" اور "سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی" شامل ہیں۔

ان کی شاعری کے آن لائن ادبی ریکارڈ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غزل ان کے تخلیقی اظہار کا اہم حصہ ہے۔ الف یار پر بھی ان کے نام سے پانچ غزلیں درج ہیں، جن میں "میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے" اور "چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی" شامل ہیں۔

شعری موضوعات



راکب مختار کی دستیاب غزلوں میں محبت، تنہائی، تلاش، جدائی، انسانی کیفیت، روحانی وابستگی اور معاشرتی مشاہدے جیسے موضوعات مختلف انداز میں سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر "میں جب اس کے لیے بیتاب ہوا کرتا تھا" میں یاد، ماضی اور تعلقات کی کیفیات نظر آتی ہیں، جبکہ "اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو" میں یاد، فاصلے اور داخلی کیفیت کا اظہار ملتا ہے۔

"حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے" کے عنوان سے درج غزل میں عشق اور مرشد سے وابستگی کا صوفیانہ رنگ نمایاں ہے۔ اسی کلام کی ادائیگی کا ایک ریکارڈ 2024 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے صوفیانہ مشاعرے سے بھی ملتا ہے، جہاں راکب مختار نے اپنی شاعری پیش کی۔ اس تقریب کا تعلق مسلم انسٹی ٹیوٹ، ادارۂ فروغِ قومی زبان اور یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام سے بتایا گیا ہے۔

ادبی سرگرمیاں



راکب مختار کی ادبی موجودگی صرف آن لائن شعری صفحات تک محدود دکھائی نہیں دیتی۔ 2024 کے اسلام آباد کے صوفیانہ مشاعرے میں ان کی شرکت کا ریکارڈ اس بات کی دستاویزی مثال ہے کہ وہ مشاعروں میں بھی اپنا کلام پیش کرتے رہے ہیں۔ مسلم انسٹی ٹیوٹ کے شائع کردہ پروگرام ریکارڈ میں انہیں شاعر کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

ان کے نام سے مختلف ادبی ویب سائٹس پر غزلیں بھی محفوظ ہیں۔ سلام اردو پر ان کی متعدد غزلیں شائع ہوئی ہیں، جبکہ ریختہ پر ان کی پانچ غزلیں درج ہیں۔ اس طرح دستیاب ریکارڈ ان کی شناخت کو بنیادی طور پر ایک معاصر اردو غزل گو شاعر کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔

ادبی شناخت



راکب مختار کی ادبی شناخت ان کے قلمی نام سے قائم ہے، جبکہ ریختہ ان کا اصل نام عابد حسین درج کرتا ہے۔ ان کی دستیاب تخلیقات کی تعداد کے بارے میں مختلف ویب پلیٹ فارمز کے ریکارڈ الگ الگ ہو سکتے ہیں، اس لیے یہاں صرف وہ کلام بیان کیا گیا ہے جو معتبر ادبی صفحات پر ان کے نام سے واضح طور پر درج ہے۔

ان کی مکمل سوانح، خاندانی پس منظر، ادبی اساتذہ، باقاعدہ ملازمت یا کسی شعری مجموعے کی اشاعت کے بارے میں وسیع اور دوہرے تصدیقی شواہد دستیاب نہیں ملے۔ اسی وجہ سے ان پہلوؤں کے بارے میں قیاس یا غیر مصدقہ معلومات شامل نہیں کی گئیں۔

کارنامے

اردو شاعری



* راکب مختار کی شناخت ایک معاصر پاکستانی اردو شاعر کے طور پر ریختہ کے ادبی ریکارڈ میں موجود ہے۔
* ریختہ پر ان کے نام سے پانچ غزلیں درج ہیں، جن میں "حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے" اور "میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے" شامل ہیں۔
* الف یار پر بھی ان کے نام سے پانچ غزلوں کا ریکارڈ موجود ہے۔

مشاعروں میں شرکت



* 2024 میں اسلام آباد میں منعقدہ صوفیانہ مشاعرے میں راکب مختار نے اپنی شاعری پیش کی۔ اس پروگرام کا انعقاد مسلم انسٹی ٹیوٹ، ادارۂ فروغِ قومی زبان اور یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے بتایا گیا ہے۔

آن لائن ادبی ریکارڈ



* ان کی متعدد غزلیں سلام اردو سمیت مختلف ادبی ویب پلیٹ فارمز پر محفوظ اور شائع ہوئی ہیں۔

مشہور کام

اہم غزلیں



* "حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے" — ریختہ پر راکب مختار کی غزل کے طور پر درج ہے۔
* "میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے" — ریختہ اور الف یار دونوں پر راکب مختار کے نام سے موجود ہے۔
* "عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں" — ریختہ پر ان کے نام سے درج غزل۔
* "چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی" — ریختہ اور الف یار پر ان کے نام سے درج غزل۔
* "سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی" — ریختہ کے ریکارڈ میں ان کی غزل کے طور پر موجود ہے۔

دیگر معروف کلام



* "میں جب اس کے لیے بیتاب ہوا کرتا تھا" — سلام اردو پر راکب مختار کی غزل کے طور پر شائع ہوئی۔
* "اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو" — سلام اردو پر ان کے نام سے شائع شدہ غزل۔

مشاعرے میں پیش کیا گیا کلام



* "حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے" — 2024 کے اسلام آباد صوفیانہ مشاعرے میں راکب مختار نے یہ کلام پیش کیا۔
تاریخ پیدائش
22 Jan 1987
جائے پیدائش
Shorkot, Jhang District, Punjab, Pakistan