Wednesday, September 23, 2026
FB
عمران طالب درد
گلوکار

عمران طالب درد

Imran Talib Dard
خانوآنہ، ضلع جھنگ، پنجاب، پاکستان دستیاب معتبر معلومات عمران طالب درد کو خانوآنہ، ضلع جھنگ کے علاقے سے وابستہ بتاتی ہیں، تاہم پیدائش کی مخصوص جگہ کے بارے میں اس سے زیادہ تفصیلی مستند ریکارڈ دستیاب نہیں ملا۔
1 ویوز
2026 شامل شد

تعارف

خاندانی پس منظر اور موسیقی سے تعلق



عمران طالب درد کا شمار پنجاب کے ان لوک گلوکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے خاندان سے ملنے والی موسیقی کی روایت کو آگے بڑھایا۔ وہ معروف پنجابی لوک گلوکار استاد طالب حسین درد کے صاحبزادے ہیں۔ ان کا تعلق ضلع جھنگ کے علاقے خانوآنہ سے ہے، جہاں طالب حسین درد نے اپنی طویل فنی زندگی کے دوران پنجابی لوک موسیقی، ڈھورے، ماہئے اور گوان جیسی مقامی اصناف کو اپنی آواز کے ذریعے مقبول رکھا۔ عمران طالب نے اسی ماحول میں موسیقی کو قریب سے دیکھا اور اپنے والد کی محفلوں اور فنکارانہ سرگرمیوں سے عملی طور پر سیکھنے کا موقع حاصل کیا۔

عمران طالب درد کی زندگی کے ابتدائی برسوں، باقاعدہ تعلیم اور تاریخِ پیدائش کے بارے میں قابل اعتماد عوامی ذرائع میں تفصیلی معلومات موجود نہیں ہیں۔ اسی لیے ان کے بچپن یا تعلیمی پس منظر کے بارے میں غیرمصدقہ تفصیلات شامل کرنا مناسب نہیں۔ البتہ دستیاب انٹرویوز اور ثقافتی تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ موسیقی ان کے خاندانی ماحول کا بنیادی حصہ رہی۔

والد سے فنی تربیت



عمران طالب درد کی گائیکی پر ان کے والد استاد طالب حسین درد کا گہرا اثر ہے۔ ایک ثقافتی مضمون میں عمران طالب نے اپنے والد کو اپنا استاد قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے والد کے اندازِ گائیکی کو بنیادی طور پر فالو کرتے ہیں اور طالب حسین درد کے ساتھ ساتھ اللہ دتہ لونہ والا اور منصور ملنگی کو بھی اپنی موسیقی کے لیے متاثر کن شخصیات سمجھتے ہیں۔

طالب حسین درد خود پنجابی لوک موسیقی کے نمایاں فنکار تھے۔ وہ خاص طور پر جوگ، ڈھورے، ماہئے اور گوان کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے اور ان کی گائیکی میں جھنگ کے مقامی ثقافتی رنگ کو نمایاں مقام حاصل تھا۔ عمران طالب نے اسی روایتی طرز کو جدید ریکارڈنگ اور نئی نسل کے سامعین تک پہنچانے کی کوشش کی۔

گائیکی کے میدان میں آمد



دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق طالب حسین درد نے 1999ء میں اپنے بیٹے عمران طالب کو گائیکی کے میدان میں متعارف کرایا۔ باپ بیٹے کی آواز میں مشابہت بھی محسوس کی جاتی تھی اور دونوں نے مشترکہ طور پر گائیکی اور ریکارڈنگ کا کام کیا۔ اس طرح عمران طالب کا فنی سفر محض ایک نئے گلوکار کے طور پر نہیں بلکہ ایک معروف لوک موسیقی کے خاندان کی اگلی نسل کے طور پر سامنے آیا۔

ان کے ابتدائی فنی سفر میں والد کے ساتھ محافل اور لوک موسیقی کی روایتی محفلیں اہم رہیں۔ عمران طالب درد نے پنجابی اور سرائیکی رنگ کی گائیکی کو اختیار کیا اور وقت کے ساتھ اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کی۔ ان کی گائیکی میں مقامی زبان، روایتی شاعری اور عوامی جذبات کو نمایاں جگہ ملتی ہے۔

جھنگ کی لوک موسیقی سے وابستگی



عمران طالب درد کی شناخت کو ضلع جھنگ کی لوک موسیقی کے ثقافتی پس منظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جھنگ اور اس کے گردونواح میں ڈھورے، ماہئے، دوہرے، ٹپے، گوان اور دیگر عوامی اصناف طویل عرصے سے شادی بیاہ، میلوں اور مختلف ثقافتی تقریبات کا حصہ رہی ہیں۔

ان کے والد طالب حسین درد نے اسی مقامی روایت کو وسیع پیمانے پر متعارف کرایا۔ پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی ایک تحریر کے مطابق طالب حسین درد وسطی اور جنوبی پنجاب کے متعدد اضلاع میں لوک موسیقی کے حوالے سے معروف تھے اور ان کی گائیکی میں مقامی شعری روایت کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ عمران طالب نے اسی ورثے کو اپنے انداز میں آگے بڑھایا۔

والد کے ساتھ مشترکہ فنی سفر



عمران طالب درد نے اپنے والد کے ساتھ متعدد گیت اور البمز ریکارڈ کیے۔ ان کے مشترکہ کام کی موجودگی مختلف میوزک پلیٹ فارمز پر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ Spotify پر عمران طالب درد اور طالب حسین درد کے مشترکہ کام میں "Beli Mohon Watta Gay" اور "Katora Dahee Daa" شامل ہیں، جبکہ دونوں کے نام سے کئی دیگر ریکارڈنگز بھی دستیاب ہیں۔

ان مشترکہ ریکارڈنگز کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ ان میں ایک ہی خاندان کی دو نسلیں پنجابی لوک گائیکی کی روایت کو آواز دیتی نظر آتی ہیں۔ عمران طالب نے اپنے والد کے ساتھ روایتی لوک گیتوں، ماہئے اور دیگر اصناف پر کام جاری رکھا اور بعد میں بطور انفرادی گلوکار بھی متعدد ریکارڈنگز پیش کیں۔

موسیقی کا انداز



عمران طالب درد کی گائیکی میں پنجابی اور سرائیکی لوک روایت کا اثر نمایاں ہے۔ ان کے دستیاب گانوں کے عنوانات اور ریکارڈنگز سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا زیادہ تر کام محبت، جدائی، انسانی تعلقات، سماجی رویوں اور علاقائی جذبات کے گرد گھومتا ہے۔

ان کے والد کی گائیکی میں جوگ اور درد بھرے لوک اظہار کو خاص مقام حاصل تھا، جبکہ عمران طالب نے اس خاندانی روایت کو مختلف گانوں اور جدید ڈیجیٹل ریکارڈنگز کے ذریعے جاری رکھا۔ ان کا کام روایتی لوک موسیقی اور موجودہ دور کے ڈیجیٹل میوزک پلیٹ فارمز کے درمیان ایک رابطے کی صورت بھی دکھائی دیتا ہے۔

بیرونِ ملک پرفارمنس اور ثقافتی سرگرمیاں



عمران طالب درد کی فنی سرگرمیاں صرف پنجاب تک محدود نہیں رہیں۔ Minute Mirror کی ایک رپورٹ کے مطابق انہیں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے United Arab Emirates، London اور یورپ کے بعض دیگر مقامات پر تقریبات میں گائیکی کے لیے مدعو کیا گیا۔ اسی رپورٹ کے مطابق انہوں نے Jhang میں D-Studio Pakistan کے نام سے ایک میوزک اسٹوڈیو بھی قائم کیا، جس کا مقصد نوجوان موسیقی کے شوقین افراد کو تربیت اور مواقع فراہم کرنا تھا۔

یہ سرگرمی ان کے فنی کردار کو صرف گلوکاری تک محدود نہیں رکھتی بلکہ موسیقی کے فروغ اور نئی نسل کو لوک فنون سے جوڑنے کی کوشش بھی ظاہر کرتی ہے۔

ڈیجیٹل دور میں کام



حالیہ برسوں میں عمران طالب درد کے متعدد گانے Spotify، Apple Music، Amazon Music اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جاری ہوئے ہیں۔ ان کے ریکارڈ شدہ کام میں "Asi Mary Sarkar Tusi Changy"، "Mang Na Dhola Diti Hoi Nishani"، "Sara Jag Bewafa Koi Kise Da"، "Bhala Hovi O Chan"، "Thake Wade Han O Dhola"، "Chori Chori Tery Naal" اور دیگر گانے شامل ہیں۔

ان کی ڈسکوگرافی میں 2023 اور 2024 کے دوران متعدد البمز اور سنگلز بھی سامنے آئے، جبکہ بعد کے برسوں میں بھی ان کی نئی ریکارڈنگز جاری ہوتی رہی ہیں۔ Shazam اور دیگر میوزک ڈیٹا پلیٹ فارمز پر 2026 تک ان کے متعدد نئے گانوں اور ریکارڈنگز کا اندراج موجود ہے۔

نئی نسل تک لوک موسیقی کی منتقلی



عمران طالب درد کی فنی اہمیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ طالب حسین درد کی موسیقی کی روایت کی اگلی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے بھائی زائغم عباس درد بھی گائیکی کے میدان سے وابستہ رہے ہیں۔ 2019ء میں دونوں بھائیوں کی مشترکہ گائیکی کی ویڈیو بھی طالب حسین درد کے آفیشل YouTube چینل پر شائع ہوئی، جس میں انہیں طالب حسین درد کے بیٹوں کے طور پر متعارف کرایا گیا۔

اس خاندانی تسلسل نے جھنگ کی لوک موسیقی میں ایک ایسی روایت کو جاری رکھنے میں کردار ادا کیا جس کا مرکز مقامی زبان، عوامی شاعری اور روایتی گائیکی ہے۔

فنی شناخت اور موجودہ سرگرمیاں



عمران طالب درد آج بھی موسیقی کے میدان میں فعال ہیں اور ان کے نام سے نئی ریکارڈنگز جاری ہوتی رہی ہیں۔ 2025ء اور 2026ء میں بھی ان کے مختلف سنگلز اور دیگر ریکارڈنگز ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر درج ہیں، جن میں "Lagi Badnami"، "Sanu Samjheya Kise Nai"، "Jo Guzar Gai"، "Ajj Sek Mitraan Di" اور "Rutha Na Kar Dil Janiya" شامل ہیں۔

ان کا فنی سفر اس اعتبار سے اہم ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے ملنے والی لوک موسیقی کی روایت کو ریکارڈنگ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی کی تقریبات تک پہنچایا۔ ان کی گائیکی میں جھنگ اور وسطی پنجاب کے عوامی ثقافتی مزاج کی جھلک نمایاں رہتی ہے۔

عمران طالب درد کے بارے میں دستیاب مستند معلومات میں ان کی مکمل تاریخِ پیدائش، ابتدائی تعلیم اور بعض نجی خاندانی تفصیلات واضح طور پر درج نہیں ہیں۔ اس لیے ان پہلوؤں کے بارے میں غیرمصدقہ دعوے شامل کرنے کے بجائے ان کی فنی زندگی، طالب حسین درد سے وابستگی اور documented موسیقی کے کام کو ان کی شناخت کا بنیادی حصہ قرار دینا زیادہ مناسب ہے۔

کارنامے

خاندانی لوک موسیقی کی روایت



• معروف پنجابی لوک گلوکار استاد طالب حسین درد کے صاحبزادے کی حیثیت سے انہوں نے خاندان کی لوک موسیقی کی روایت کو آگے بڑھایا۔

• 1999ء میں طالب حسین درد نے عمران طالب کو گائیکی کے میدان میں متعارف کرایا، جس کے بعد دونوں نے مشترکہ طور پر بھی کام کیا۔

فنی اور موسیقی کی خدمات



• پنجابی اور سرائیکی لوک گائیکی میں متعدد گانے، البمز اور مشترکہ ریکارڈنگز پیش کیں۔

• "Beli Mohon Watta Gay" سمیت طالب حسین درد کے ساتھ مشترکہ ریکارڈنگز جاری کیں۔

• "Asi Mary Sarkar Tusi Changy"، "Mang Na Dhola Diti Hoi Nishani" اور "Sara Jag Bewafa Koi Kise Da" سمیت متعدد ریکارڈنگز کے ذریعے اپنی الگ فنی شناخت قائم کی۔

• 2023ء سے 2026ء تک مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر متعدد البمز، سنگلز اور دیگر ریکارڈنگز جاری کیں۔

لوک ثقافت کا فروغ



• Jhang میں D-Studio Pakistan قائم کیا، جہاں نوجوان موسیقی کے شوقین افراد کی تربیت اور حوصلہ افزائی کا کام کیا گیا۔

• پاکستانی کمیونٹی کی تقریبات میں United Arab Emirates، London اور یورپ کے بعض مقامات پر پرفارم کیا۔

• اپنے والد اور خاندان کے ذریعے منتقل ہونے والی جھنگ کی لوک موسیقی کو نئی نسل اور ڈیجیٹل سامعین تک پہنچانے میں حصہ لیا۔

مشہور کام

نمایاں گانے



• Asi Mary Sarkar Tusi Changy
• Mang Na Dhola Diti Hoi Nishani
• Sara Jag Bewafa Koi Kise Da
• Bhala Hovi O Chan
• Thake Wade Han O Dhola
• Chori Chori Tery Naal
• Jindri Luti
• Jo Guzar Gai
• Ajj Sek Mitraan Di
• Rutha Na Kar Dil Janiya
• Sanu Samjheya Kise Nai
• Shoq Tere Dedar Da

مشترکہ ریکارڈنگز



• Beli Mohon Watta Gay — Talib Hussain Dard اور Imran Talib Dard
• Katora Dahee Daa — Talib Hussain Dard اور Imran Talib Dard
• Sangi Mun Wata Gey — Talib Hussain Dard اور Imran Talib Dard
• Jado Matlab Niklay — Talib Hussain Dard اور Imran Talib Dard
• Wich Paren De Phul — Talib Hussain Dard اور Imran Talib Dard
• Modhay De Nal Baili — Talib Hussain Dard اور Imran Talib Dard

نمایاں البمز



• Ha Yeahi Imran Hai — 2023
• Naseeban De Shah — 2023
• Lar Nahi Sakinda — 2023
• Mandiya Nal Nabihden Jire — 2023
• Dil Kithay Kharayai, Vol. 2 — 2023
• Bat Karni Asi Mushkil — 2023
• Aa Sajnan Ral Kathian Bahiay — 2024
• Kadi Dhathay Hoiay — 2024
• Beli Mohon Watta Gay — 2024
جائے پیدائش
خانوآنہ، ضلع جھنگ، پنجاب، پاکستان دستیاب معتبر معلومات عمران طالب درد کو خانوآنہ، ضلع جھنگ کے علاقے سے وابستہ بتاتی ہیں، تاہم پیدائش کی مخصوص جگہ کے بارے میں اس سے زیادہ تفصیلی مستند ریکارڈ دستیاب نہیں ملا۔