Saturday, September 19, 2026
FB
حفیظ ہوشیارپوری
ادیب

حفیظ ہوشیارپوری

Shaikh Abdul Hafeez Saleem (Hafeez Hoshiarpuri)
پیدائش: 05 Jan 1912 وفات: 10 Jan 1973 دیوان پور، ضلع جھنگ، پنجاب، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان)
2 ویوز
2026 شامل شد

تعارف

ابتدائی زندگی اور پیدائش



حفیظ ہوشیارپوری اردو کے معروف شاعر تھے جن کا اصل نام شیخ عبدالحفیظ سلیم تھا اور ادبی دنیا میں وہ اپنے تخلص ’’حفیظ‘‘ اور نسبت ’’ہوشیارپوری‘‘ سے پہچانے گئے۔ دستیاب معتبر ذرائع کے مطابق ان کی پیدائش 5 جنوری 1912ء کو دیوان پور، ضلع جھنگ میں ہوئی۔ ان کا آبائی تعلق ہوشیار پور سے تھا، اسی نسبت سے وہ حفیظ ہوشیارپوری کہلائے۔ ان کی پیدائش اس زمانے میں ہوئی جب یہ خطہ برطانوی ہندوستان کا حصہ تھا۔

حفیظ کی شخصیت میں شاعری کے ساتھ علمی اور نشریاتی سرگرمیوں کا امتزاج بھی نمایاں تھا۔ ان کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے شاعری کو محض ذاتی اظہار تک محدود نہیں رکھا بلکہ ریڈیو جیسے جدید ابلاغی ادارے سے بھی طویل عرصے تک وابستگی رکھی۔

تعلیم



حفیظ ہوشیارپوری نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی اسکول، ہوشیار پور سے حاصل کی۔ دستیاب ادبی سوانحی معلومات کے مطابق انہوں نے 1928ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے فلسفے میں اعلیٰ تعلیم مکمل کی اور 1936ء میں ایم اے فلسفہ کی ڈگری حاصل کی۔

گورنمنٹ کالج لاہور میں ان کے تعلیمی زمانے کا تعلق اردو ادب کے اس دور سے تھا جس میں کئی اہم ادبی شخصیات سرگرم تھیں۔ ریختہ کے مطابق حفیظ اسی زمانے میں گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے جب فیض احمد فیض بھی وہاں طالب علم تھے۔

شاعری کا آغاز



حفیظ ہوشیارپوری کو کم عمری ہی سے شعر و ادب سے دلچسپی تھی۔ ان کے ادبی سفر میں نظم، ترجمہ اور دیگر شعری اصناف شامل رہیں، تاہم وقت کے ساتھ غزل ان کی شناخت کا نمایاں حصہ بن گئی۔ ریڈیو پاکستان کی حالیہ یادگاری تحریر بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انہوں نے ابتدا میں نظمیں لکھیں اور شعری تراجم کیے، لیکن بعد میں غزل کے حوالے سے زیادہ معروف ہوئے۔

ان کے کلام میں محبت، انتظار، انسانی جذبات اور داخلی کیفیت جیسے موضوعات نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کی غزل ’’محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے، تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے‘‘ ان کے معروف کلام میں شمار ہوتی ہے اور اسے مختلف گلوکاروں نے گایا۔

ادبی اور شعری سفر



حفیظ ہوشیارپوری نے اردو شاعری کی مختلف اصناف میں اظہار کیا۔ ان کے حوالے سے دستیاب ادبی ماخذ انہیں غزل کے علاوہ نظم اور تاریخ گوئی سے بھی وابستہ کرتے ہیں۔ تاریخ گوئی یعنی کسی واقعے یا عمارت وغیرہ کی تاریخ کو شعری انداز میں بیان کرنے کی روایت میں بھی ان کا نام آتا ہے۔

ان کی شاعری کا ایک اہم وصف نسبتاً سادہ اور رواں زبان ہے۔ ان کے معروف اشعار میں جذباتی کیفیت کو پیچیدہ لفظیات کے بجائے مختصر اور اثر انگیز انداز میں بیان کیا گیا۔ اسی وجہ سے ان کا کلام ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ موسیقی کے ذریعے بھی وسیع سامعین تک پہنچا۔ ان کے دستیاب کلام میں متعدد غزلیں اور اشعار شامل ہیں۔

آل انڈیا ریڈیو سے وابستگی



شاعری کے ساتھ حفیظ ہوشیارپوری نے نشریاتی شعبے میں بھی کام کیا۔ دستیاب سوانحی ریکارڈ کے مطابق وہ آل انڈیا ریڈیو کے لاہور اور بمبئی اسٹیشنوں سے وابستہ رہے اور وہاں ذمہ دار عہدوں پر کام کیا۔ اس تجربے نے ان کی ادبی سرگرمیوں کو ریڈیو کے وسیع ابلاغی دائرے سے جوڑ دیا۔

ریڈیو اس دور میں برصغیر کے اہم ذرائع ابلاغ میں شامل تھا، اس لیے وہاں کام کرنے والی ادبی شخصیات کا کردار صرف پروگراموں تک محدود نہیں رہتا تھا بلکہ زبان، ادب اور ثقافت کی ترسیل سے بھی وابستہ ہوتا تھا۔ حفیظ کی پیشہ ورانہ زندگی میں یہ مرحلہ ان کی ادبی شناخت کے ساتھ ساتھ اہم رہا۔

قیام پاکستان کے بعد



1947ء کے بعد حفیظ ہوشیارپوری نے پاکستان میں اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیاں جاری رکھیں اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے۔ دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق وہ ریڈیو پاکستان میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے تک پہنچے اور اسی عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

اس دور میں ریڈیو پاکستان ملک کے اہم سرکاری نشریاتی اداروں میں شامل تھا اور حفیظ کا اس ادارے سے وابستہ ہونا ان کی ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ایک اہم پیشہ ورانہ پہلو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ان کی زندگی میں ادب اور نشریات دونوں شعبے ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہے۔

ناصر کاظمی سے تعلق



حفیظ ہوشیارپوری کا ادبی تعلق شاعر ناصر کاظمی سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ ریڈیو پاکستان اور ریختہ کے دستیاب پروفائلز میں ناصر کاظمی کو حفیظ کا شاگرد بیان کیا گیا ہے۔ اس تعلق کے نتیجے میں ناصر کاظمی نے ان کی رہنمائی میں غزل کی مشق کی۔

یہ نسبت حفیظ کے ادبی اثرات کے حوالے سے اہم ہے کیونکہ ناصر کاظمی بعد میں اردو غزل کے معروف شعرا میں شمار ہوئے۔ حفیظ کی ادبی زندگی کو سمجھتے ہوئے یہ تعلق ان کے استادانہ کردار کا ایک دستاویزی پہلو فراہم کرتا ہے۔

تاریخ گوئی



حفیظ ہوشیارپوری کی ادبی شناخت صرف غزل تک محدود نہیں تھی۔ معتبر ادبی تعارف میں انہیں تاریخ گوئی کے حوالے سے بھی نمایاں قرار دیا گیا ہے۔ تاریخ گوئی اردو اور فارسی شعری روایت کی ایک مخصوص صنف ہے جس میں کسی واقعے یا اہم موقع کی تاریخ کو شعری پیرائے میں محفوظ کیا جاتا ہے۔

ان کے اس پہلو سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ادبی دلچسپیاں وسیع تھیں اور وہ صرف ایک ہی شعری صنف تک محدود نہیں رہے۔ تاہم ان کی عوامی شناخت بالخصوص غزل کے حوالے سے زیادہ مضبوط ہوئی۔

مجموعۂ کلام اور آخری دور



حفیظ ہوشیارپوری نے اپنی زندگی میں اپنا شعری مجموعہ شائع نہیں کیا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے کلام کا مجموعہ ’’مقام غزل‘‘ شائع ہوا۔ ریڈیو پاکستان اور ادبی ذرائع دونوں اس مجموعے کی اشاعت کو ان کی وفات کے بعد کا واقعہ قرار دیتے ہیں۔

15 اپریل 2026ء کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں بھی ان کے مجموعۂ کلام کے بعد از وفات شائع ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے ان کے ادبی کام کے تحفظ اور اشاعت میں بعد کے دور کے کردار کی نشاندہی ہوتی ہے۔

وفات



حفیظ ہوشیارپوری کا انتقال 10 جنوری 1973ء کو کراچی میں ہوا۔ ریڈیو پاکستان کے 2026ء کے تعزیتی مضمون کے مطابق ان کا انتقال طویل علالت کے بعد ہوا۔ ان کی عمر اس وقت تقریباً 61 سال تھی۔

ان کے بعد ان کا شعری مجموعہ ’’مقام غزل‘‘ شائع ہوا، جبکہ ان کی کئی غزلیں اور اشعار ادبی اور موسیقی کے حلقوں میں محفوظ رہے۔ خاص طور پر ’’محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے‘‘ ان کے نام سے جڑی ہوئی سب سے زیادہ معروف غزلوں میں شامل ہے۔

کارنامے

اردو غزل میں نمایاں مقام



حفیظ ہوشیارپوری نے اردو شاعری میں خصوصاً غزل کے میدان میں اپنا ادبی مقام بنایا۔ ان کی غزل ’’محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے‘‘ ان کے معروف کلام میں شمار ہوتی ہے اور مختلف گلوکاروں کی آواز میں پیش کی گئی۔

ریڈیو کے شعبے میں خدمات



انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے لاہور اور بمبئی اسٹیشنوں پر ذمہ دار عہدوں پر کام کیا۔ قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

تاریخ گوئی



حفیظ ہوشیارپوری کو تاریخ گوئی کے حوالے سے بھی شناخت حاصل تھی۔ ادبی ذرائع ان کی اس صلاحیت کو ان کی شاعرانہ سرگرمیوں کا ایک نمایاں حصہ قرار دیتے ہیں۔

ادبی تربیت



ناصر کاظمی کو حفیظ ہوشیارپوری کا شاگرد بتایا جاتا ہے۔ یہ تعلق اردو غزل کی ادبی روایت میں حفیظ کے استادانہ کردار کا ایک دستاویزی پہلو ہے۔

بعد از وفات ادبی مجموعہ



ان کے شعری کلام کا مجموعہ ’’مقام غزل‘‘ ان کے انتقال کے بعد شائع ہوا، جس نے ان کے منتشر شعری کام کو ایک مجموعے کی صورت میں محفوظ کیا۔

مشہور کام

معروف غزل



* ’’محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے‘‘ — یہ حفیظ ہوشیارپوری کی سب سے زیادہ معروف غزلوں میں شمار ہوتی ہے اور اسے مختلف گلوکاروں نے گایا۔

دیگر معروف کلام



* ’’تیری تلاش میں ہم جب کبھی نکلتے ہیں‘‘ — ریڈیو پاکستان کے ادبی تعارف میں ان کے معروف کلام میں شامل ہے۔
* ’’تمام عمر تیرا انتظار ہم نے کیا‘‘ — ان کی دستیاب غزلوں میں شامل ہے۔
* ’’ہر قدم پر ہم سمجھتے تھے کہ منزل آ گئی‘‘ — ان کے دستیاب شعری کلام میں شامل غزل ہے۔

شعری مجموعہ



* ’’مقام غزل‘‘ — حفیظ ہوشیارپوری کے کلام کا مجموعہ، جو ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔

ریڈیو اور ادبی خدمات



* آل انڈیا ریڈیو کے لاہور اور بمبئی اسٹیشنوں سے وابستگی۔
* قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان میں خدمات اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے ریٹائرمنٹ۔
* اردو شاعری کے ساتھ تاریخ گوئی اور مختلف شعری اصناف میں طبع آزمائی۔
تاریخ پیدائش
05 Jan 1912
تاریخ وفات
10 Jan 1973
جائے پیدائش
دیوان پور، ضلع جھنگ، پنجاب، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان)