کھلاڑی
وقار یونس
Waqar Younis
پیدائش: 16 Nov 1971
وہاڑی، پنجاب، پاکستان
تعارف
ابتدائی زندگی
وقار یونس پاکستان کے معروف سابق بین الاقوامی کرکٹر، فاسٹ بولر، کپتان اور کوچ ہیں۔ وہ 16 نومبر 1971 کو وہاڑی، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے تھے جبکہ دائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم بولنگ ان کی بنیادی شناخت رہی۔
کرکٹ کا آغاز
وقار یونس نے کم عمری میں کرکٹ کھیلنا شروع کی اور ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی تیز رفتار بولنگ کے ذریعے نمایاں ہوئے۔ ان کے کیریئر کا ابتدائی دور پاکستان کے ڈومیسٹک اداروں اور مختلف علاقائی ٹیموں سے وابستہ رہا۔ بعد ازاں ان کی کارکردگی نے انہیں قومی ٹیم تک پہنچایا۔
بین الاقوامی کرکٹ
وقار یونس نے پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ اور ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلی۔ ان کا شمار پاکستان کے ان فاسٹ بولرز میں ہوتا ہے جنہوں نے رفتار کے ساتھ گیند کو اچانک اندر یا باہر لانے اور ریورس سوئنگ کے ذریعے بلے بازوں کو مشکلات میں ڈالا۔ آئی سی سی نے انہیں ریورس سوئنگ کے نمایاں ماہرین میں شمار کیا ہے۔
ان کے بین الاقوامی کیریئر میں 87 ٹیسٹ میچ اور 262 ایک روزہ بین الاقوامی میچ شامل رہے۔ انہوں نے ٹیسٹ میں 373 اور ون ڈے میں 416 وکٹیں حاصل کیں۔
وسیم اکرم کے ساتھ جوڑی
وقار یونس اور وسیم اکرم کی فاسٹ بولنگ جوڑی پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں خاص طور پر معروف ہوئی۔ دونوں کو کرکٹ کی دنیا میں ’’ٹو ڈبلیوز‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا گیا۔ وقار کی رفتار، ریورس سوئنگ اور یارکر جبکہ وسیم اکرم کی سوئنگ بولنگ نے پاکستان کے فاسٹ بولنگ اٹیک کو نمایاں شناخت دی۔
ریورس سوئنگ اور بولنگ کا انداز
وقار یونس کی بولنگ کی سب سے نمایاں خصوصیات میں تیز رفتار، ریورس سوئنگ اور یارکر شامل تھے۔ ان کی گیند عموماً آخری لمحات میں حرکت کرتی تھی، جس کی وجہ سے وہ خصوصاً پرانے گیند کے ساتھ خطرناک ثابت ہوتے تھے۔
آئی سی سی کے مطابق وہ ون ڈے کرکٹ میں 400 وکٹیں حاصل کرنے والے تیز ترین بولر تھے۔ وہ ایک روزہ کرکٹ میں مسلسل تین میچوں میں پانچ، پانچ وکٹیں لینے والے واحد بولر بھی رہے ہیں۔
نمایاں بولنگ کارکردگی
ٹیسٹ کرکٹ میں وقار یونس کی بہترین میچ بولنگ 13 وکٹیں تھیں، جو انہوں نے زمبابوے کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں حاصل کیں۔ اس میچ میں انہوں نے پہلی اننگز میں 7 اور دوسری اننگز میں 6 وکٹیں حاصل کیں۔
ون ڈے کرکٹ میں ان کی بہترین کارکردگی 7 وکٹیں دے کر 36 رنز تھی، جو انہوں نے 2001 میں انگلینڈ کے خلاف ہیڈنگلے میں حاصل کی۔
قومی ٹیم کی قیادت
وقار یونس نے پاکستان کی قومی ٹیم کی قیادت بھی کی۔ انہوں نے 17 ٹیسٹ اور 62 ون ڈے میچوں میں پاکستان کی کپتانی کی۔ وہ 1999 کے عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کے کپتان بھی تھے، جہاں پاکستان فائنل تک پہنچا۔ بعد میں انہوں نے 2003 کے عالمی کپ میں بھی پاکستان کی قیادت کی۔
عالمی کپ میں شرکت
وقار یونس نے پاکستان کی جانب سے تین عالمی کپ ٹورنامنٹس میں شرکت کی۔ 1996 کے عالمی کپ میں پاکستان کوارٹر فائنل تک پہنچا، جبکہ 1999 کے عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم نے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ 2003 کے عالمی کپ میں وہ پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے۔
آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم
2013 میں وقار یونس کو آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔ وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے والے پاکستان کے پانچویں کھلاڑی بنے۔ آئی سی سی کے مطابق اس وقت وہ ہال آف فیم میں شامل ہونے والے 70ویں مرد کھلاڑی تھے۔
کوچنگ اور کمنٹری
2003 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وقار یونس نے کوچنگ اور کرکٹ کمنٹری کے شعبے میں بھی کام کیا۔ انہوں نے پاکستان کی قومی ٹیم کے ساتھ مختلف ادوار میں کوچ اور بولنگ کوچ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق وہ 2010 اور 2016 کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ جبکہ 2011 اور 2015 کے عالمی کپ میں پاکستان کے کوچنگ سیٹ اپ کا حصہ رہے۔ 2019 سے 2021 تک انہوں نے پاکستان کے بولنگ کوچ کی ذمہ داری بھی انجام دی۔
بعد کی خدمات
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وقار یونس پاکستان کرکٹ کے مختلف منصوبوں اور کھلاڑیوں کی تربیت سے وابستہ رہے۔ 2024 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں چیمپئنز ون ڈے کپ میں لائنز کے مینٹور کے طور پر مقرر کیا۔
کرکٹ میں مقام
وقار یونس کا شمار پاکستان کے نمایاں فاسٹ بولرز میں ہوتا ہے۔ ان کے کیریئر کی خاص پہچان رفتار، ریورس سوئنگ، یارکر اور وکٹ لینے کی صلاحیت رہی۔ ان کی 373 ٹیسٹ اور 416 ون ڈے وکٹیں ان کے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا اہم حصہ ہیں، جبکہ آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم میں شمولیت ان کے طویل کرکٹ سفر کا ایک اہم اعزاز ہے۔
کارنامے
بین الاقوامی ریکارڈ
* ٹیسٹ کرکٹ میں 87 میچوں کے دوران 373 وکٹیں حاصل کیں۔
* ون ڈے کرکٹ میں 262 میچوں کے دوران 416 وکٹیں حاصل کیں۔
* ون ڈے کرکٹ میں 400 وکٹیں مکمل کرنے والے تیز ترین بولر رہے۔
* ٹیسٹ کرکٹ میں 22 مرتبہ ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔
* ٹیسٹ میچ میں پانچ مرتبہ ایک میچ میں 10 یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔
منفرد ون ڈے کارنامہ
* مسلسل تین ون ڈے میچوں میں پانچ، پانچ وکٹیں لینے والے واحد بولر رہے۔
* یہ کارنامہ نومبر 1990 میں تین مسلسل ون ڈے میچوں میں انجام دیا۔
بہترین بولنگ
* ٹیسٹ میں بہترین میچ بولنگ: 13 وکٹیں، زمبابوے کے خلاف کراچی۔
* ون ڈے میں بہترین بولنگ: 7 وکٹیں دے کر 36 رنز، انگلینڈ کے خلاف ہیڈنگلے، 2001۔
قومی ٹیم کی قیادت
* پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے 17 میچوں میں کپتان رہے۔
* پاکستان کی ون ڈے ٹیم کے 62 میچوں میں کپتان رہے۔
* 1999 کے عالمی کپ میں پاکستان کی قیادت کی اور ٹیم فائنل تک پہنچی۔
* 2003 کے عالمی کپ میں پاکستان کے کپتان رہے۔
آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم
* 2013 میں آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم میں شامل ہوئے۔
* وہ پاکستان کے ان کھلاڑیوں میں شامل ہوئے جنہیں آئی سی سی نے اس اعزاز کے لیے منتخب کیا۔
کوچنگ
* پاکستان کے قومی کوچنگ سیٹ اپ کے ساتھ مختلف ادوار میں خدمات انجام دیں۔
* 2010 اور 2016 کے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ اور 2011 اور 2015 کے عالمی کپ میں کوچنگ ذمہ داریاں نبھائیں۔
* 2019 سے 2021 تک پاکستان کے بولنگ کوچ رہے۔
دیگر اعزاز
* 1992 میں وزڈن کرکٹرز آف دی ایئر میں شامل کیے گئے۔
* 2021 میں پاکستان کرکٹ بورڈ ہال آف فیم میں شامل ہوئے۔
مشہور کام
ریورس سوئنگ
وقار یونس کی سب سے نمایاں کرکٹ شناخت ریورس سوئنگ رہی۔ پرانی گیند کو رفتار کے ساتھ اچانک اندر یا باہر حرکت دینے کی ان کی صلاحیت نے انہیں دنیا کے معروف فاسٹ بولرز میں شامل کیا۔ آئی سی سی نے بھی انہیں ریورس سوئنگ کے مشہور ماہر کے طور پر بیان کیا ہے۔
یارکر اور تیز رفتار بولنگ
وقار یونس کی بولنگ میں تیز رفتار یارکر ایک نمایاں ہتھیار تھی۔ وہ خاص طور پر آخری اوورز میں بلے بازوں کے خلاف وکٹ لینے والی گیندیں کرنے کے لیے مشہور رہے۔
مسلسل تین پانچ وکٹیں
1990 میں انہوں نے مسلسل تین ون ڈے میچوں میں پانچ، پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ آئی سی سی کے مطابق وہ مردوں کی ون ڈے کرکٹ میں ایسا کرنے والے واحد بولر ہیں۔
انگلینڈ کے خلاف 7 وکٹیں
2001 میں ہیڈنگلے میں انگلینڈ کے خلاف وقار یونس نے 36 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ان کی ون ڈے کرکٹ کی بہترین بولنگ کارکردگی رہی۔
زمبابوے کے خلاف 13 وکٹیں
کراچی میں زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میچ میں انہوں نے مجموعی طور پر 13 وکٹیں حاصل کیں۔ پہلی اننگز میں 7 اور دوسری اننگز میں 6 وکٹیں ان کی اس نمایاں ٹیسٹ کارکردگی کا حصہ تھیں۔
پاکستان کی فاسٹ بولنگ کی تاریخ میں کردار
وسیم اکرم کے ساتھ ان کی جوڑی کو ’’ٹو ڈبلیوز‘‘ کے نام سے یاد کیا گیا۔ دونوں نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں پاکستان کی فاسٹ بولنگ کو بین الاقوامی کرکٹ میں نمایاں مقام دلانے میں حصہ لیا۔
کوچنگ کا کام
ریٹائرمنٹ کے بعد وقار یونس نے پاکستان سمیت مختلف کرکٹ سیٹ اپس میں کوچنگ کی۔ ان کی کوچنگ کا بڑا حصہ فاسٹ بولنگ، کھلاڑیوں کی تیاری اور قومی ٹیم کی کارکردگی سے متعلق رہا۔
تاریخ پیدائش
16 Nov 1971
جائے پیدائش
وہاڑی، پنجاب، پاکستان