کھلاڑی
وسیم اکرم
Wasim Akram
پیدائش: 03 Jun 1966
لاہور، پنجاب، پاکستان
تعارف
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
وسیم اکرم پاکستان کے معروف سابق بین الاقوامی کرکٹر، بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر اور سابق کپتان ہیں۔ وہ 3 جون 1966 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق انہوں نے بائیں ہاتھ سے بیٹنگ اور بائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم بولنگ کی۔ ان کا بین الاقوامی کیریئر 1985 سے 2003 تک جاری رہا۔
وسیم اکرم کو ابتدائی دور میں جاوید میانداد کی توجہ حاصل ہوئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق نیوزی لینڈ کے خلاف راولپنڈی میں ایک ٹور میچ میں ان کی نمایاں بولنگ کے بعد انہیں 1984-85 کے دورۂ نیوزی لینڈ کے لیے پاکستانی ٹیم میں شامل کیا گیا۔
بین الاقوامی کرکٹ
وسیم اکرم نے 25 جنوری 1985 کو پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا۔ وہ ابتدا ہی سے اپنی رفتار، سوئنگ اور گیند کو دونوں سمتوں میں حرکت دینے کی صلاحیت کے باعث نمایاں ہوئے۔ وقت کے ساتھ انہوں نے ریورس سوئنگ اور یارکر کو بھی اپنی بولنگ کا مؤثر حصہ بنایا اور دنیا کے نمایاں فاسٹ بولرز میں شمار ہونے لگے۔
ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے پاکستان کی طرف سے 104 میچ کھیلے اور 414 وکٹیں حاصل کیں۔ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں انہوں نے 356 میچوں میں 502 وکٹیں لیں۔ وہ ون ڈے کرکٹ میں 500 وکٹوں کا سنگِ میل عبور کرنے والے پہلے بولر بھی بنے۔
1992 کا عالمی کپ
وسیم اکرم کے کیریئر کا سب سے نمایاں باب 1992 کا عالمی کپ تھا۔ پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں یہ عالمی کپ جیتا اور وسیم اکرم نے ٹورنامنٹ میں 18 وکٹیں حاصل کرکے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر کا اعزاز حاصل کیا۔
انگلینڈ کے خلاف فائنل میں وسیم اکرم نے فیصلہ کن بولنگ کی۔ انہوں نے ایلن لیمب اور کرس لیوس کو مسلسل گیندوں پر آؤٹ کیا، جبکہ اس میچ میں مجموعی طور پر تین وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی اس کارکردگی نے پاکستان کی عالمی کپ فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
آل راؤنڈ کارکردگی
وسیم اکرم صرف فاسٹ بولر ہی نہیں تھے بلکہ ایک قابلِ ذکر آل راؤنڈر بھی رہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے 2,898 رنز اور ون ڈے کرکٹ میں 3,717 رنز بنائے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی سب سے بڑی انفرادی اننگز 257 ناٹ آؤٹ تھی، جو انہوں نے 1996-97 میں زمبابوے کے خلاف شیخوپورہ میں کھیلی۔ اسی میچ میں انہوں نے ثقلین مشتاق کے ساتھ نویں وکٹ کی 313 رنز کی ریکارڈ شراکت بھی قائم کی۔
قومی ٹیم کی قیادت
وسیم اکرم نے پاکستان کی قومی ٹیم کی قیادت بھی کی۔ ان کی کپتانی میں پاکستان نے اہم سیریز جیتیں، جن میں 1996 کے دورۂ انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز اور 1997-98 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز شامل تھیں۔ وہ 1999 کے عالمی کپ میں بھی پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے، جہاں پاکستان فائنل تک پہنچا۔
کاؤنٹی کرکٹ
وسیم اکرم نے انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹ میں لنکاشائر کی نمائندگی بھی کی۔ وہ 1987 میں لنکاشائر سے وابستہ ہوئے اور 1998 میں کاؤنٹی کے کپتان بنے۔ کاؤنٹی کرکٹ میں ان کی کارکردگی نے ان کی بین الاقوامی شہرت کو مزید مضبوط کیا۔
آئی سی سی ہال آف فیم
وسیم اکرم کو 2009 میں آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔ آئی سی سی نے انہیں بائیں ہاتھ کے عظیم فاسٹ بولرز میں شمار کرتے ہوئے ان کی سوئنگ اور سیم بولنگ کی مہارت کو نمایاں کیا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد
2003 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وسیم اکرم نے کرکٹ سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔ وہ مختلف ٹیلی وژن چینلز پر کمنٹیٹر اور کرکٹ تجزیہ کار کے طور پر بھی نظر آتے رہے ہیں۔ ان کا تجربہ خاص طور پر فاسٹ بولنگ، میچ کی حکمتِ عملی اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کے تجزیے میں استعمال ہوتا رہا ہے۔
کرکٹ میں مقام
وسیم اکرم کی شناخت پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں ایک ایسے فاسٹ بولر کے طور پر ہوئی جس نے رفتار، سوئنگ، ریورس سوئنگ اور یارکر کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ ان کے 414 ٹیسٹ اور 502 ون ڈے وکٹیں ان کے طویل بین الاقوامی کیریئر کا اہم حصہ ہیں۔
کارنامے
بین الاقوامی ریکارڈ
* ٹیسٹ کرکٹ میں 414 وکٹیں حاصل کیں۔
* ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں 502 وکٹیں حاصل کیں۔
* ون ڈے کرکٹ میں 500 وکٹوں کا سنگِ میل عبور کرنے والے پہلے بولر بنے۔
* ٹیسٹ کرکٹ میں 104 میچ کھیلے۔
* ون ڈے کرکٹ میں 356 میچ کھیلے۔
1992 عالمی کپ
* 1992 کے عالمی کپ میں پاکستان کی فاتح ٹیم کا حصہ رہے۔
* ٹورنامنٹ میں 18 وکٹیں لے کر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر رہے۔
* عالمی کپ کے فائنل میں انگلینڈ کے خلاف تین وکٹیں حاصل کیں۔
* فائنل میں ایلن لیمب اور کرس لیوس کو مسلسل گیندوں پر آؤٹ کیا۔
آل راؤنڈ کارکردگی
* ٹیسٹ کرکٹ میں 2,898 رنز بنائے۔
* ون ڈے کرکٹ میں 3,717 رنز بنائے۔
* ٹیسٹ کرکٹ میں 257 ناٹ آؤٹ کی انفرادی اننگز کھیلی۔
* ثقلین مشتاق کے ساتھ نویں وکٹ کی 313 رنز کی ریکارڈ شراکت میں شامل رہے۔
کپتانی
* پاکستان کی قومی ٹیم کی قیادت کی۔
* 1996 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو کامیابی دلائی۔
* 1997-98 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی ہوم ٹیسٹ سیریز میں قیادت کی۔
* 1999 کے عالمی کپ میں پاکستان کے کپتان رہے اور ٹیم فائنل تک پہنچی۔
آئی سی سی ہال آف فیم
* 2009 میں آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم میں شامل ہوئے۔
مشہور کام
سوئنگ اور ریورس سوئنگ
وسیم اکرم کی سب سے نمایاں کرکٹ خصوصیات میں تیز رفتار سوئنگ اور ریورس سوئنگ شامل ہیں۔ انہوں نے بائیں ہاتھ کی فاسٹ بولنگ میں گیند کی حرکت، رفتار اور درست لائن و لینتھ کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ ان کی یارکر بھی ان کی بولنگ کی نمایاں پہچان رہی۔
1992 عالمی کپ کی بولنگ
1992 کے عالمی کپ میں 18 وکٹیں حاصل کرنا ان کی مشہور ترین کارکردگیوں میں شامل ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف اہم گروپ میچ میں انہوں نے 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ فائنل میں انگلینڈ کے خلاف تین وکٹیں لے کر پاکستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
500 ون ڈے وکٹیں
ون ڈے کرکٹ میں 500 وکٹوں کا سنگِ میل وسیم اکرم کے کیریئر کی اہم کامیابیوں میں شامل ہے۔ وہ اس مقام تک پہنچنے والے پہلے بولر تھے اور ان کا ون ڈے کیریئر 502 وکٹوں پر مکمل ہوا۔
ٹیسٹ میں 257 ناٹ آؤٹ
1996-97 میں زمبابوے کے خلاف شیخوپورہ ٹیسٹ میں وسیم اکرم نے 257 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کی سب سے بڑی انفرادی اننگز تھی اور اسی دوران ثقلین مشتاق کے ساتھ نویں وکٹ کی 313 رنز کی ریکارڈ شراکت قائم ہوئی۔
لنکاشائر کے لیے خدمات
وسیم اکرم نے انگلش کاؤنٹی لنکاشائر کے لیے بھی نمایاں کرکٹ کھیلی اور 1998 میں اس کی قیادت کی۔ کاؤنٹی کرکٹ میں ان کی خدمات ان کے بین الاقوامی کیریئر کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
کرکٹ کا علمی و عملی ورثہ
وسیم اکرم نے ریٹائرمنٹ کے بعد کمنٹری اور کرکٹ تجزیے کے ذریعے کھیل سے تعلق برقرار رکھا۔ ان کا تجربہ خاص طور پر فاسٹ بولنگ اور جدید کرکٹ کی حکمتِ عملی کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
تاریخ پیدائش
03 Jun 1966
جائے پیدائش
لاہور، پنجاب، پاکستان