ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا
محسن نقوی کی مزید شاعری
شعر
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
شعر
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
نظم
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
غزل
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو
کلیوں کی طرح پھوٹ سر شاخ تمنا
نظم
ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو
کلیوں کی طرح پھوٹ سر شاخ تمنا
کسی کے دور جانے سے
کسی کے دور جانے سے
تعلق ٹوٹ جانے سے
کسی کے مان جانے سے
غزل
تعلق ٹوٹ جانے سے
کسی کے مان جانے سے
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا