غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو
کلیوں کی طرح پھوٹ سر شاخ تمنا
خوشبو کی طرح پھیل چمن تا بہ چمن تو
نازل ہو کبھی ذہن پہ آیات کی صورت
آیات میں ڈھل جا کبھی جبریل دہن تو
اب کیوں نہ سجاؤں میں تجھے دیدہ و دل میں
لگتا ہے اندھیرے میں سویرے کی کرن تو
پہلے نہ کوئی رمز سخن تھی نہ کنایہ
اب نقطۂ تکمیل ہنر محور فن تو
یہ کم تو نہیں تو مرا معیار نظر ہے
اے دوست مرے واسطے کچھ اور نہ بن تو
ممکن ہو تو رہنے دے مجھے ظلمت جاں میں
ڈھونڈے گا کہاں چاندنی راتوں کا کفن تو
محسن نقوی کی مزید شاعری
شعر
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
غزل
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
نظم
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
چلو چھوڑو
چلو چھوڑو
محبت جھوٹ ہے
عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
غزل
محبت جھوٹ ہے
عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
شعر
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
غزل
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا
کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے
دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا
کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے