Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو

غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو
کلیوں کی طرح پھوٹ سر شاخ تمنا
خوشبو کی طرح پھیل چمن تا بہ چمن تو
نازل ہو کبھی ذہن پہ آیات کی صورت
آیات میں ڈھل جا کبھی جبریل دہن تو
اب کیوں نہ سجاؤں میں تجھے دیدہ و دل میں
لگتا ہے اندھیرے میں سویرے کی کرن تو
پہلے نہ کوئی رمز سخن تھی نہ کنایہ
اب نقطۂ تکمیل ہنر محور فن تو
یہ کم تو نہیں تو مرا معیار نظر ہے
اے دوست مرے واسطے کچھ اور نہ بن تو
ممکن ہو تو رہنے دے مجھے ظلمت جاں میں
ڈھونڈے گا کہاں چاندنی راتوں کا کفن تو
29 ویوز 12 Sep 2026 غزل