میں نے اکثر خواب میں دیکھا
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
قبر کی اجلی پیشانی پر
دھندلے میلے شیشے کی تختی کے پیچھے
تیرا نام لکھا ہے
تیرا میرا نام کہ جس میں
شیشے پتھر جیسی کوئی بات نہیں ہے
تیری شہرت میں بھی
میری رسوائی کا ہات نہیں ہے
پھر بھی
سوچو
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
محسن نقوی کی مزید شاعری
شعر
ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ
غزل
سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل
نظم
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل
فراق صبحوں کی بجھتی کرنیں
فراق صبحوں کی بجھتی کرنیں
وصال شاموں کی جلتی شمعیں
زوال زرداب خال و خد سے اٹے زمانے
شعر
وصال شاموں کی جلتی شمعیں
زوال زرداب خال و خد سے اٹے زمانے
گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
غزل
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
شعر
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی
محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی