Monday, October 26, 2026
FB
نظم

میں نے اکثر خواب میں دیکھا

میں نے اکثر خواب میں دیکھا
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
قبر کی اجلی پیشانی پر
دھندلے میلے شیشے کی تختی کے پیچھے
تیرا نام لکھا ہے
تیرا میرا نام کہ جس میں
شیشے پتھر جیسی کوئی بات نہیں ہے
تیری شہرت میں بھی
میری رسوائی کا ہات نہیں ہے
پھر بھی
سوچو
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
28 ویوز 12 Sep 2026 نظم