بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے
کچھ ایسے ہی تمہارا اور ہمارا ساتھ رہتا ہے
محبت ہو کہ نفرت ہو اسی سے مشورہ ہوگا
مری ہر کیفیت میں استخارہ ساتھ ہوتا ہے
سفر میں عین ممکن ہے میں خود کو چھوڑ دوں لیکن
دعائیں کرنے والوں کا سہارا ساتھ رہتا ہے
مرے مولا نے مجھ کو چاہتوں کی سلطنت دے دی
مگر پہلی محبت کا خسارہ ساتھ رہتا ہے
اگر سیدؔ مرے لب پر محبت ہی محبت ہے
تو پھر بھی کس لیے نفرت کا دھارا ساتھ رہتا ہے
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے
اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے
ایسا لگتا ہے کہ جنت سے ہوا آتی ہے
چومنے دار کو کس دھج سے چلا ہے کوئی
غزل
ایسا لگتا ہے کہ جنت سے ہوا آتی ہے
چومنے دار کو کس دھج سے چلا ہے کوئی
کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے
کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے
میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے
خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے
غزل
میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے
خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے
کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا
کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا
منڈیروں سے چراغوں کو بجھا کر کچھ نہیں ملتا
ہماری سوچ کی پرواز کو روکے نہیں کوئی
غزل
منڈیروں سے چراغوں کو بجھا کر کچھ نہیں ملتا
ہماری سوچ کی پرواز کو روکے نہیں کوئی
جھک گئی جب یہ انا تیرے در سفاک پر
جھک گئی جب یہ انا تیرے در سفاک پر
مجھ سے مت پوچھو کہ کیا گزری دل بے باک پر
اس زمیں سے آسماں تک میں بکھرتی ہی گئی
غزل
مجھ سے مت پوچھو کہ کیا گزری دل بے باک پر
اس زمیں سے آسماں تک میں بکھرتی ہی گئی
بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا
بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا
اب مجھے چھوڑ کے دنیا میں تماشہ نہ بنا
اک یہی دکھ مرے مرنے کے لیے کافی ہے
غزل
اب مجھے چھوڑ کے دنیا میں تماشہ نہ بنا
اک یہی دکھ مرے مرنے کے لیے کافی ہے
ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
بکھر گئے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
بکھر گئے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا