Monday, October 26, 2026
FB
نظم

دل دکھتا ہے

دل دکھتا ہے
آباد گھروں سے دور کہیں
جب بنجر بن میں آگ جلے
دل دکھتا ہے
پردیس کی بوجھل راہوں میں
جب شام ڈھلے
دل دکھتا ہے
جب رات کا قاتل سناٹا
پر ہول فضا کے وہم لیے
قدموں کی چاپ کے ساتھ چلے
دل دکھتا ہے
28 ویوز 12 Sep 2026 نظم