دل دکھتا ہے
آباد گھروں سے دور کہیں
جب بنجر بن میں آگ جلے
دل دکھتا ہے
پردیس کی بوجھل راہوں میں
جب شام ڈھلے
دل دکھتا ہے
جب رات کا قاتل سناٹا
پر ہول فضا کے وہم لیے
قدموں کی چاپ کے ساتھ چلے
دل دکھتا ہے
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
شعر
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
شعر
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
شعر
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی
یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی
نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی
غزل
نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی
کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
اک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پر
تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے
نظم
اک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پر
تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
سایۂ شام غریباں کی طرح
شورش دیدۂ گریاں کی طرح
سایۂ شام غریباں کی طرح
شورش دیدۂ گریاں کی طرح