کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
اک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پر
تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے
مجھ کو زنجیریں ملی ہیں جرأت اظہار پر
شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر
سنگ دل احباب کے دامن میں رسوائی کے پھول
میں نے دیکھا ہے نیا منظر فراز دار پر
اب کوئی تہمت بھی وجہ کرب رسوائی نہیں
زندگی اک عمر سے چپ ہے ترے اصرار پر
میں سر مقتل حدیث زندگی کہتا رہا
انگلیاں اٹھتی رہیں محسنؔ مرے کردار پر
محسن نقوی کی مزید شاعری
شعر
تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے
شعر
یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
شعر
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
غزل
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
شعر
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
غزل
ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں