Wednesday, October 28, 2026
FB
نظم

فراق صبحوں کی بجھتی کرنیں

فراق صبحوں کی بجھتی کرنیں
وصال شاموں کی جلتی شمعیں
زوال زرداب خال و خد سے اٹے زمانے
یہ ہانپتی دھوپ کانپتی چاندنی سے چہرے
ہیں میرے احساس کا اثاثہ
بہار کے بے کنار موسم میں کھلنے والے
تمام پھولوں سے پھوٹتے رنگ
وحشتوں میں گھرے
لبوں کے کھلے دریچوں سے بہنے والے حروف میری نشانیاں ہیں
29 ویوز 12 Sep 2026 نظم