کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
اتنی مدت بعد ملے ہو
اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو
غزل
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو
خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
ابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گی
ترے لیے مجھے ہنس ہنس کے بولنا ہوگا
شعر
ابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گی
ترے لیے مجھے ہنس ہنس کے بولنا ہوگا
اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
شعر
اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
غزل
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں
وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے
غزل
مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں
وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے
کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا
کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا
بھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلا
بچھڑ کر تجھ سے میں شب بھر نہ سویا کون رویا
بھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلا
بچھڑ کر تجھ سے میں شب بھر نہ سویا کون رویا