گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
انگلیاں پھیر کے بالوں میں سلا دے مجھ کو
جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں
اپنے گھر کے کسی کونے سے لگا دے مجھ کو
یاد کر کے مجھے تکلیف ہی ہوتی ہوگی
ایک قصہ ہوں پرانا سا بھلا دے مجھ کو
ڈوبتے ڈوبتے آواز تری سن جاؤں
آخری بار تو ساحل سے صدا دے مجھ کو
میں ترے ہجر میں چپ چاپ نہ مر جاؤں کہیں
میں ہوں سکتے میں کبھی آ کے رلا دے مجھ کو
دیکھ میں ہو گیا بدنام کتابوں کی طرح
میری تشہیر نہ کر اب تو جلا دے مجھ کو
روٹھنا تیرا مری جان لیے جاتا ہے
ایسے ناراض نہ ہو ہنس کے دکھا دے مجھ کو
اور کچھ بھی نہیں مانگا مرے مالک تجھ سے
اس کی گلیوں میں پڑی خاک بنا دے مجھ کو
لوگ کہتے ہیں کہ یہ عشق نگل جاتا ہے
میں بھی اس عشق میں آیا ہوں دعا دے مجھ کو
یہی اوقات ہے میری ترے جیون میں کہ میں
کوئی کمزور سا لمحہ ہوں بھلا دے مجھ کو
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
غم کی اس سل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
تو مرے دل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
مجھ کو تسلیم تری ساری ذہانت لیکن
غزل
تو مرے دل کو کبھی بھی نہ سمجھ پائے گی
مجھ کو تسلیم تری ساری ذہانت لیکن
باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو
باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو
جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو
پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں
غزل
جی میں آتا ہے کہ تعویذ بنا لیں تم کو
پھر تمہیں روز سنواریں تمہیں بڑھتا دیکھیں
ہم نے جو دیپ جلائے ہیں تری گلیوں میں
ہم نے جو دیپ جلائے ہیں تری گلیوں میں
اپنے کچھ خواب سجائے ہیں تری گلیوں میں
جانے یہ عشق ہے یا کوئی کرامت اپنی
غزل
اپنے کچھ خواب سجائے ہیں تری گلیوں میں
جانے یہ عشق ہے یا کوئی کرامت اپنی
مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں
مری وفا نے کھلائے تھے جو گلاب سارے جھلس گئے ہیں
تمہاری آنکھوں میں جس قدر تھے وہ خواب سارے جھلس گئے ہیں
مری زمیں کو کسی نئے حادثے کا ہے انتظار شاید
غزل
تمہاری آنکھوں میں جس قدر تھے وہ خواب سارے جھلس گئے ہیں
مری زمیں کو کسی نئے حادثے کا ہے انتظار شاید
دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے
دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے
تو مل بھی جاتا تو آخر تجھے گنوا دیتے
تمہی نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہ
غزل
تو مل بھی جاتا تو آخر تجھے گنوا دیتے
تمہی نے ہم کو سنایا نہ اپنا دکھ ورنہ
مان لے اب بھی مری جان ادا درد نہ چن
مان لے اب بھی مری جان ادا درد نہ چن
کام آتی نہیں پھر کوئی دعا درد نہ چن
اور کچھ دیر میں مجھ کو چلے جانا ہوگا
کام آتی نہیں پھر کوئی دعا درد نہ چن
اور کچھ دیر میں مجھ کو چلے جانا ہوگا