مان لے اب بھی مری جان ادا درد نہ چن
کام آتی نہیں پھر کوئی دعا درد نہ چن
اور کچھ دیر میں مجھ کو چلے جانا ہوگا
اور کچھ دیر مجھے خواب دکھا درد نہ چن
ایک بھی درد نہ کم ہوگا کئی صدیوں میں
اب بھی کہتا ہوں تجھے وقت بچا درد نہ چن
وہ جو لکھا ہے کسی طور نہیں ٹل سکتا
آ مرے دل میں کوئی دیپ جلا درد نہ چن
میں ترے لمس سے محروم نہ رہ جاؤں کہیں
آخری بار مجھے خود سے لگا درد نہ چن
اب تو یہ ریشمی پوریں بھی چھدی جاتی ہیں
خود کو اب بخش بھی دے ظلم نہ ڈھ درد نہ چن
یہ نہیں ہوں گے تو کھائے نہیں ہو جاؤں گا میں
میرے زخموں سے کوئی گیت بنا درد نہ چن
کچھ نہ دے گا یہ مسائل سے الجھتے رہنا
چھوڑ سب کچھ مری بانہوں میں سما درد نہ چن
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے
تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے
ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا
ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
غزل
ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا
ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
غزل
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
کاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے
دل توڑ کے خموش نظاروں کا کیا ملا
غزل
کاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے
دل توڑ کے خموش نظاروں کا کیا ملا
ڈوبتا صاف نظر آیا کنارہ کوئی دوست
ڈوبتا صاف نظر آیا کنارہ کوئی دوست
پھر بھی کشتی سے نہیں ہم نے اتارا کوئی دوست
جب بھی نیکی کا کوئی کام کیا ہے ہم نے
غزل
پھر بھی کشتی سے نہیں ہم نے اتارا کوئی دوست
جب بھی نیکی کا کوئی کام کیا ہے ہم نے
کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے
کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے
یہ جو تم بھول جایا کرتے تھے
کس کا اب ہاتھ رکھ کے سینے پر
یہ جو تم بھول جایا کرتے تھے
کس کا اب ہاتھ رکھ کے سینے پر
اپنا تو چاہتوں میں یہی اک اصول ہے
اپنا تو چاہتوں میں یہی اک اصول ہے
تیرا بھلا برا ہمیں سب کچھ قبول ہے
یہ عمر بھر کا جاگنا بیکار ہی نہ جائے
تیرا بھلا برا ہمیں سب کچھ قبول ہے
یہ عمر بھر کا جاگنا بیکار ہی نہ جائے