ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں
تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں
طلوع صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں
یہ دشت شب میں ستاروں کی ہم سفر آنکھیں
ستم یہ کم تو نہیں دل گرفتگی کے لئے
میں شہر بھر میں اکیلا ادھر ادھر آنکھیں
شمار اس کی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص
چراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں
میں زخم زخم ہوا جب تو مجھ پہ بھید کھلا
کہ پتھروں کو سمجھتی رہیں گہر آنکھیں
میں اپنے اشک سنبھالوں گا کب تلک محسنؔ
زمانہ سنگ بکف ہے تو شیشہ گر آنکھیں
محسن نقوی کی مزید شاعری
شعر
کون سی بات ہے تم میں ایسی
کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
شعر
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم
اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
غزل
اس طور تو ہارے ہوئے لشکر نہیں آتے
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
نظم
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
مری گلی کے غلیظ بچو
مری گلی کے غلیظ بچو
تم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھو
تمہاری آنکھیں
نظم
تم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھو
تمہاری آنکھیں
اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت کی ساری روشنیاں
آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں
شعر
اس سمت کی ساری روشنیاں
آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں
وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی
ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی