اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت کی ساری روشنیاں
آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں
اس سمت کی اجلی مٹی میں
ناگن آشائیں پلتی ہیں
اس سمت کی صبحیں شام تلک
ہونٹوں سے زہر اگلتی ہیں
اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت کے آنگن مقتل ہیں
اس سمت دہکتی گلیوں میں
زہریلی باس کا جادو ہے
اس سمت مہکتی کلیوں میں
کافور کی قاتل خوشبو ہے
اس سمت کی ہر دہلیز تلے
شمشان ہے جلتے جسموں کا
اس سمت فضا پر سایہ ہے
بے معنی مبہم اسموں کا
اس سمت نہ جانا جان مری
اس سمت کی ساری پھلجھڑیاں
بارود کی تال میں ڈھلتی ہیں
اس سمت کے پتھر رستوں میں
منہ زور ہوائیں چلتی ہیں
اس سمت کی ساری روشنیاں
آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں
اس سمت کے وہموں میں گھر کر
کھو بیٹھو گی پہچان مری
اس سمت نہ جانا جان مری
محسن نقوی کی مزید شاعری
نظم
تمہیں کس نے کہا تھا
تمہیں کس نے کہا تھا
دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو
اور اتنی دیر تک دیکھو
شعر
دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو
اور اتنی دیر تک دیکھو
کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو
غزل
شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
شعر
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
غزل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
شعر
سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی
یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی
نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی
نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی