ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
بدن سے روح کا اس درجہ اشتراک ہوا
یہی کہ سب کی کمانیں ہمیں پہ ٹوٹی ہیں
چلو حساب صف دوستاں تو پاک ہوا
وہ بے سبب یوں ہی روٹھا ہے لمحہ بھر کے لئے
یہ سانحہ نہ سہی پھر بھی کرب ناک ہوا
اسی کے قرب نے تقسیم کر دیا آخر
وہ جس کا ہجر مجھے وجہ انہماک ہوا
شدید وار نہ دشمن دلیر تھا محسنؔ
میں اپنی بے خبری سے مگر ہلاک ہوا
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
تو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں
جو دشت میں بھی جلاتے تھے فصل گل کے چراغ
شعر
تو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں
جو دشت میں بھی جلاتے تھے فصل گل کے چراغ
بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
غزل
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا
یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
نظم
بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا
یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے
ایک نقطے پر
وہ اک نقطہ
شعر
ایک نقطے پر
وہ اک نقطہ
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے
شعر
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی