Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا

ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں
بدن سے روح کا اس درجہ اشتراک ہوا
یہی کہ سب کی کمانیں ہمیں پہ ٹوٹی ہیں
چلو حساب صف دوستاں تو پاک ہوا
وہ بے سبب یوں ہی روٹھا ہے لمحہ بھر کے لئے
یہ سانحہ نہ سہی پھر بھی کرب‌ ناک ہوا
اسی کے قرب نے تقسیم کر دیا آخر
وہ جس کا ہجر مجھے وجہ انہماک ہوا
شدید وار نہ دشمن دلیر تھا محسنؔ
میں اپنی بے خبری سے مگر ہلاک ہوا
25 ویوز 12 Sep 2026 غزل