مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے
ایک نقطے پر
وہ اک نقطہ
جو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر
لفظ کی تشکیل کرتا ہے
وہ اک نقطہ سمٹ جائے تو
ہونے کا ہر اک امکاں
نہ ہونے تک کا سارا فاصلہ
پل بھر میں طے کر لے
وہی نقطہ بکھر جائے
تو ہر اک شے
نہ ہونے کے قفس کی تیلیوں کو توڑ کر رکھ دے
وہ ایک نقطہ مری آنکھوں میں اکثر
روشنی کے ساتھ رنگوں کو اگاتا ہے
مرے ادراک میں شبنم کی صورت
یا ستارے کی طرح لوح یقیں پر جگمگاتا ہے
وہی نقطہ مجھے تشکیک کے جنگل میں
جگنو بن کے منزل کی طرف رستہ دکھاتا ہے
مجھے اکثر بتاتا ہے
مرا ہونا نہ ہونے کا عمل سے
مرے ہونے کی بھی تکمیل ہوتی ہے
وہ اک نقطہ کہاں ہے
کون ہے
کس کے لبوں میں چھپ کے ہر اثبات کو
انکار میں تبدیل کرتا ہے
جو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر لفظ کی تشکیل کرتا ہے
یہ نکتہ بھی اسی نقطے میں مضمر ہے
وہ ایک نقطہ کہ اب تک جس کے ہونے کا امیں ہوں میں
وہ افشا ہو تو میں سمجھوں
کہ ہوں بھی یا نہیں ہوں میں
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے
شعر
میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں
مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
غزل
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
اتنی مدت بعد ملے ہو
اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو
غزل
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو
میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
مجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھی
اسے جکڑا ہوا تھا زندگی نے
غزل
مجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھی
اسے جکڑا ہوا تھا زندگی نے
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
نظم
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
مری گلی کے غلیظ بچو
مری گلی کے غلیظ بچو
تم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھو
تمہاری آنکھیں
تم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھو
تمہاری آنکھیں