ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
روتے رہتے ہیں عزادار نہیں سو سکتے
روتی آنکھوں سے میں ہنستے ہوئے کرتا مولا
تجھ پہ قربان اگر دونوں جہاں ہو سکتے
اتنی ہمت ہی نہیں ہے کہ میں دربار لکھوں
کاش زینب کے مصائب بھی بیاں ہو سکتے
ہم نے ہر دور کے ظالم کا کیا ہے انکار
ہم سے کافر تو مسلمان نہیں ہو سکتے
راکب مختار کی مزید شاعری
غزل
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
شعر
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو
اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو
لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں
غزل
لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں
حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے
میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست
شعر
عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے
میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست
پھول اس خوف سے لے لیتی تھی لڑکی راکب
پھول اس خوف سے لے لیتی تھی لڑکی راکب
دوسرے ہاتھ میں تیزاب ہوا کرتا تھا
رباعی
دوسرے ہاتھ میں تیزاب ہوا کرتا تھا
کس نے کہا تھا جان رسالت شہید کر
کس نے کہا تھا جان رسالت شہید کر
بیٹھا ہے دو جہان کی لعنت خرید کر
اصغر ملائکہ بھی سنیں گونج عرش پر
شعر
بیٹھا ہے دو جہان کی لعنت خرید کر
اصغر ملائکہ بھی سنیں گونج عرش پر
وہ بادشاہ مولا علی ع کا غلام تھا
وہ بادشاہ مولا علی ع کا غلام تھا
خیرات کی جگہ مرے کاسے میں تاج ہے
خیرات کی جگہ مرے کاسے میں تاج ہے