کس نے کہا تھا جان رسالت شہید کر
بیٹھا ہے دو جہان کی لعنت خرید کر
اصغر ملائکہ بھی سنیں گونج عرش پر
باطل کے منہ پر ایسا تماچہ رسید کر
راکب مختار کی مزید شاعری
غزل
حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے
میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست
غزل
عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے
میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست
خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
بس دل پہ ایک راج کماری کا راج ہے
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
غزل
بس دل پہ ایک راج کماری کا راج ہے
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
غزل
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی
سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی
کہ اس میں ایک بھی جھاڑی نہیں بنائی گئی
یہ سرحدیں تو بہت بعد میں بنیں پہلے
شعر
کہ اس میں ایک بھی جھاڑی نہیں بنائی گئی
یہ سرحدیں تو بہت بعد میں بنیں پہلے
حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے
حر فوج شام چھوڑ کے شبیر سے ملے
زم زم کشید ہو گیا کچی شراب سے
غزل
زم زم کشید ہو گیا کچی شراب سے
تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے