میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
حسین خواب کے ریشے تلاش کرتے ہوئے
میں سوکھے پیڑ سے اکثر کلام کرتا تھا
ہواۓ سبز کے لہجے تلاش کرتے ہوئے
ہم ان پرندوں کے جیسے ہیں جو زمیں پہ تری
شکار ہو گئے دانے تلاش کرتے ہوئے
کبھی کبھی تو مکمل غزل سے ملتا ہوں
سخن کے شہر میں مصرعے تلاش کرتے ہوئے
کہیں کہیں تو مجھے آنکھ خرچ کرنا پڑی
نفیس پاؤں کے چھالے تلاش کرتے ہوئے
راکب مختار کی مزید شاعری
شعر
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
روتے رہتے ہیں عزادار نہیں سو سکتے
شعر
روتے رہتے ہیں عزادار نہیں سو سکتے
دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
شعر
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں
بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں
تمہارے بعد جچی ہے جو سادگی مجھ پر
رباعی
تمہارے بعد جچی ہے جو سادگی مجھ پر
سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
غزل
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر
غزل
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر
عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی