میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
حسین خواب کے ریشے تلاش کرتے ہوئے
میں سوکھے پیڑ سے اکثر کلام کرتا تھا
ہواۓ سبز کے لہجے تلاش کرتے ہوئے
ہم ان پرندوں کے جیسے ہیں جو زمیں پہ تری
شکار ہو گئے دانے تلاش کرتے ہوئے
کبھی کبھی تو مکمل غزل سے ملتا ہوں
سخن کے شہر میں مصرعے تلاش کرتے ہوئے
کہیں کہیں تو مجھے آنکھ خرچ کرنا پڑی
نفیس پاؤں کے چھالے تلاش کرتے ہوئے
راکب مختار کی مزید شاعری
شعر
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
نبی کے بوسے بھی کاٹے ہیں تیرے خنجر نے
غزل
نبی کے بوسے بھی کاٹے ہیں تیرے خنجر نے
حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے
میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست
شعر
عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے
میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست
شام غریباں دیکھ رہے تھے یہ امتی
شام غریباں دیکھ رہے تھے یہ امتی
خیموں میں کوئی اور محمد بچا نہ ہو
شعر
خیموں میں کوئی اور محمد بچا نہ ہو
پھول دے کر اسے کہنا کہ بدن کٹتے ہیں
پھول دے کر اسے کہنا کہ بدن کٹتے ہیں
پھول جھڑتے نہیں چلتی ہوئی تلواروں سے
رباعی
پھول جھڑتے نہیں چلتی ہوئی تلواروں سے
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
غزل
ویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے
وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھا
بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
جو تو نے صرف کیا ہے دیا بجھانے میں
خدا کرے کہ مرے کوزہ گر کو علم نہ ہو
جو تو نے صرف کیا ہے دیا بجھانے میں
خدا کرے کہ مرے کوزہ گر کو علم نہ ہو