Sunday, November 01, 2026
FB
غزل

میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے

میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
حسین خواب کے ریشے تلاش کرتے ہوئے
میں سوکھے پیڑ سے اکثر کلام کرتا تھا
ہواۓ سبز کے لہجے تلاش کرتے ہوئے
ہم ان پرندوں کے جیسے ہیں جو زمیں پہ تری
شکار ہو گئے دانے تلاش کرتے ہوئے
کبھی کبھی تو مکمل غزل سے ملتا ہوں
سخن کے شہر میں مصرعے تلاش کرتے ہوئے
کہیں کہیں تو مجھے آنکھ خرچ کرنا پڑی
نفیس پاؤں کے چھالے تلاش کرتے ہوئے
36 ویوز 13 Sep 2026 غزل