Thursday, September 17, 2026
غزل

میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے

میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
حسین خواب کے ریشے تلاش کرتے ہوئے
میں سوکھے پیڑ سے اکثر کلام کرتا تھا
ہواۓ سبز کے لہجے تلاش کرتے ہوئے
ہم ان پرندوں کے جیسے ہیں جو زمیں پہ تری
شکار ہو گئے دانے تلاش کرتے ہوئے
کبھی کبھی تو مکمل غزل سے ملتا ہوں
سخن کے شہر میں مصرعے تلاش کرتے ہوئے
کہیں کہیں تو مجھے آنکھ خرچ کرنا پڑی
نفیس پاؤں کے چھالے تلاش کرتے ہوئے
3 ویوز 13 Sep 2026 غزل

راکب مختار کی مزید شاعری

شعر

دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں

دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
روتے رہتے ہیں عزادار نہیں سو سکتے
شعر

دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے

دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
شعر

بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں

بچھڑنے والے بھلا کس طرح بتاؤں تمہیں
تمہارے بعد جچی ہے جو سادگی مجھ پر
رباعی

سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے

سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
غزل

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر
غزل

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی