تمہیں کس نے کہا تھا
دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو
اور اتنی دیر تک دیکھو
کہ بینائی پگھل جائے
تمہیں کس نے کہا تھا
آسماں سے ٹوٹتی اندھی الجھتی بجلیوں سے دوستی کر لو
اور اتنی دوستی کر لو
کہ گھر کا گھر ہی جل جائے
تمہیں کس نے کہا تھا
ایک انجانے سفر میں
اجنبی رہرو کے ہمرا دور تک جاؤ
اور اتنی دور تک جاؤ
کہ وہ رستہ بدل جائے
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا
جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا
وہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیا
اب اس سے بڑھ کے کیا ہو وراثت فقیر کی
شعر
وہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیا
اب اس سے بڑھ کے کیا ہو وراثت فقیر کی
بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
غزل
مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا
لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی
لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی
میں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھی
اسے لبھا نہ سکا میرے بعد کا موسم
نظم
میں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھی
اسے لبھا نہ سکا میرے بعد کا موسم
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دلوں میں داغ چمکتے تھے
شعر
جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دلوں میں داغ چمکتے تھے
کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ
کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ
کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
شعر
کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے
پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے