کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
غزل
سب سے اونچا تھا جو سر نوک سناں پر دیکھا
ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
نظم
اداس نسلوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا
ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
شعر
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
شعر
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
شعر
ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی