Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر

عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
لہو چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر
سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا
کہ سانپ زہر چھڑکتا رہا چنبیلی پر
شب فراق مری آنکھ کو تھکن سے بچا
کہ نیند وار نہ کر دے تری سہیلی پر
وہ بے وفا تھا تو پھر اتنا مہرباں کیوں تھا
بچھڑ کے اس سے میں سوچوں اسی پہیلی پر
جلا نہ گھر کا اندھیرا چراغ سے محسنؔ
ستم نہ کر مری جاں اپنے یار بیلی پر
29 ویوز 12 Sep 2026 غزل