Monday, October 26, 2026
FB
غزل

اتنی مدت بعد ملے ہو

اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو
میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
تم دریا سے بھی گہرے ہو
کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا
پتھر بن کر کیا تکتے ہو
جاؤ جیت کا جشن مناؤ
میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو
اپنے شہر کے سب لوگوں سے
میری خاطر کیوں الجھے ہو
کہنے کو رہتے ہو دل میں
پھر بھی کتنے دور کھڑے ہو
رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا
رات بہت ہی یاد آئے ہو
ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے
اپنی کہو اب تم کیسے ہو
محسنؔ تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو
36 ویوز 12 Sep 2026 غزل