کیا کہیں تجھ سے کہ کس کس کے کرم ہیں ہم ہیں
کچھ ترے کچھ تری دنیا کے ستم ہیں ہم ہیں
تو نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں
بس تری یاد ہے اور آخری دم ہیں ہم ہیں
ہائے کیا جان کے دروازہ نہ کھولا اس نے
ہم پکارا ہی کیے یار یہ ہم ہیں ہم ہیں
کیسے کیسے وہ کیا کرتا ہے وعدے ہم سے
صبح سے شام تلک اس کے بھرم ہیں ہم ہیں
ساقیا ہم سے بھی دیرینہ مراسم ہیں ترے
یہ جو محروم قدح غرق الم ہیں ہم ہیں
تو ہی شیرازۂ جاں ہے تو ہی شیرازۂ دل
جب تلک ہم پہ ترے جور و ستم ہیں ہم ہیں
جن کو مجنوں بھی کیا کرتا ہے جھک کر آداب
گرچہ اس طرح کے عاشق بڑے کم ہیں ہم ہیں
یہ ہمارا ہے کسی اور کا لاشہ تو نہیں
کس لیے آنکھ کے گوشے ترے نم ہیں ہم ہیں
ساقیا حفظ مراتب کا ذرا دھیان رہے
ایسا لگتا ہے کہ معیار سے کم ہیں ہم ہیں
غیر کے دم سے ہے رونق بھی چراغاں بھی وصیؔ
تیری محفل میں اگر سبز قدم ہیں ہم ہیں
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
مان لے اب بھی مری جان ادا درد نہ چن
مان لے اب بھی مری جان ادا درد نہ چن
کام آتی نہیں پھر کوئی دعا درد نہ چن
اور کچھ دیر میں مجھ کو چلے جانا ہوگا
غزل
کام آتی نہیں پھر کوئی دعا درد نہ چن
اور کچھ دیر میں مجھ کو چلے جانا ہوگا
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں
تم مری آنکھ کے سمندر میں
غزل
دھوپ اتری ہوئی ہے بالوں میں
تم مری آنکھ کے سمندر میں
ہم نے جو دیپ جلائے ہیں تری گلیوں میں
ہم نے جو دیپ جلائے ہیں تری گلیوں میں
اپنے کچھ خواب سجائے ہیں تری گلیوں میں
جانے یہ عشق ہے یا کوئی کرامت اپنی
غزل
اپنے کچھ خواب سجائے ہیں تری گلیوں میں
جانے یہ عشق ہے یا کوئی کرامت اپنی
اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے
اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے
ایسا لگتا ہے کہ جنت سے ہوا آتی ہے
چومنے دار کو کس دھج سے چلا ہے کوئی
غزل
ایسا لگتا ہے کہ جنت سے ہوا آتی ہے
چومنے دار کو کس دھج سے چلا ہے کوئی
میں ہوں ترا خیال ہے اور چاند رات ہے
میں ہوں ترا خیال ہے اور چاند رات ہے
دل درد سے نڈھال ہے اور چاند رات ہے
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
غزل
دل درد سے نڈھال ہے اور چاند رات ہے
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
کاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے
دل توڑ کے خموش نظاروں کا کیا ملا
کاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے
دل توڑ کے خموش نظاروں کا کیا ملا