میں ہوں ترا خیال ہے اور چاند رات ہے
دل درد سے نڈھال ہے اور چاند رات ہے
آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں
کاندھوں پہ غم کی شال ہے اور چاند رات ہے
دل توڑ کے خموش نظاروں کا کیا ملا
شبنم کا یہ سوال ہے اور چاند رات ہے
پھر تتلیاں سی اڑنے لگیں دشت خواب میں
پھر خواہش وصال ہے اور چاند رات ہے
کیمپس کی نہر پر ہے ترا ہاتھ ہاتھ میں
موسم بھی لا زوال ہے اور چاند رات ہے
ہر اک کلی نے اوڑھ لیا ماتمی لباس
ہر پھول پر ملال ہے اور چاند رات ہے
میری تو پور پور میں خوشبو سی بس گئی
اس پر ترا خیال ہے اور چاند رات ہے
چھلکا سا پڑ رہا ہے وصیؔ وحشتوں کا رنگ
ہر چیز پہ زوال ہے اور چاند رات ہے
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
انگلیاں پھیر کے بالوں میں سلا دے مجھ کو
جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں
غزل
انگلیاں پھیر کے بالوں میں سلا دے مجھ کو
جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں
دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے
سانس تک بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقت
غزل
تیرے لوٹ آنے کا امکان سجا رکھا ہے
سانس تک بھی نہیں لیتے ہیں تجھے سوچتے وقت
میرے اس دیدۂ خوں ناب کے پیچھے پیچھے
میرے اس دیدۂ خوں ناب کے پیچھے پیچھے
ایک بے خوابی ہے اس خواب کے پیچھے پیچھے
عمر بھر چین نہیں پاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
غزل
ایک بے خوابی ہے اس خواب کے پیچھے پیچھے
عمر بھر چین نہیں پاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
تیری جانب اگر چلے ہوتے
تیری جانب اگر چلے ہوتے
ہم نہ یوں در بدر ہوئے ہوتے
ساری دنیا ہے میری مٹھی میں
غزل
ہم نہ یوں در بدر ہوئے ہوتے
ساری دنیا ہے میری مٹھی میں
قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو
قلم ہو تیغ ہو تیشہ کہ ڈھال مت چھینو
کبھی کسی سے کسی کا کمال مت چھینو
خوشی اسی میں اگر ہے تو ہر خوشی لے لو
غزل
کبھی کسی سے کسی کا کمال مت چھینو
خوشی اسی میں اگر ہے تو ہر خوشی لے لو
سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی
وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی
یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی
وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی