Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے

تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے
ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا
ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
صفحۂ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا
اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤ گے
کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا
اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے
خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آؤں گا
میری خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح
تم اگر خود سے نہ بولو گے تو یاد آؤں گا
آج تو محفل یاراں پہ ہو مغرور بہت
جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آؤں گا
32 ویوز 12 Sep 2026 غزل

وصی شاہ کی مزید شاعری

غزل

یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم

یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم
خوب روئے ہیں لپٹ کر در و دیوار سے ہم
یار کی آنکھ میں نفرت نے ہمیں مار دیا
غزل

بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا

بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا
اب مجھے چھوڑ کے دنیا میں تماشہ نہ بنا
اک یہی دکھ مرے مرنے کے لیے کافی ہے
غزل

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے
میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے
خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے
غزل

آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے

آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے
تم موسم ہو اور موسم ہرجائی ہے
تو نے کیسے موڑ پہ چھوڑ دیا مجھ کو
غزل

بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے

بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے
کچھ ایسے ہی تمہارا اور ہمارا ساتھ رہتا ہے
محبت ہو کہ نفرت ہو اسی سے مشورہ ہوگا
غزل

بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے

بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے
رفتگاں دل میں بسا کرتے ہیں کیسے کیسے
جان لے کر بھی اگر خوش نہیں ہونے والا