میرے اس دیدۂ خوں ناب کے پیچھے پیچھے
ایک بے خوابی ہے اس خواب کے پیچھے پیچھے
عمر بھر چین نہیں پاتے ہیں وہ لوگ کہ جو
بھاگتے رہتے ہیں اسباب کے پیچھے پیچھے
دل بھی اشکوں کے تعاقب میں بہا جاتا ہے
ایک صحرا سا ہے سیلاب کے پیچھے پیچھے
کچھ تو تا عمر رہے کسب ہنر میں مصروف
اور کچھ تمغہ و القاب کے پیچھے پیچھے
جس کی تکمیل پہ آنکھیں بھی گئیں دل بھی گیا
عمر گزری تھی اسی خواب کے پیچھے پیچھے
ان پہ زنداں کی فصیلوں کو بھی پیار آتا ہے
جو چلے آتے ہیں احباب کے پیچھے پیچھے
ہم تو اس درجہ ترے نام کے دیوانے ہیں
جیسے دوڑے کوئی سرخاب کے پیچھے پیچھے
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے
بھول سکتا ہے انہیں کوئی بھی ایسے کیسے
رفتگاں دل میں بسا کرتے ہیں کیسے کیسے
جان لے کر بھی اگر خوش نہیں ہونے والا
غزل
رفتگاں دل میں بسا کرتے ہیں کیسے کیسے
جان لے کر بھی اگر خوش نہیں ہونے والا
دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا
دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا
گھر جاؤ تو یاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
وہ ضبط نہ کر پائیں گی آنکھوں کے سمندر
غزل
گھر جاؤ تو یاروں سے مرا ذکر نہ کرنا
وہ ضبط نہ کر پائیں گی آنکھوں کے سمندر
یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم
یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم
خوب روئے ہیں لپٹ کر در و دیوار سے ہم
یار کی آنکھ میں نفرت نے ہمیں مار دیا
غزل
خوب روئے ہیں لپٹ کر در و دیوار سے ہم
یار کی آنکھ میں نفرت نے ہمیں مار دیا
کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے
کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے
میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے
خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے
غزل
میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے
خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے
سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی
یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی
وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی
غزل
یا مری طرح فقط اشک بہاتی ہوگی
وہ مری شکل مرا نام بھلانے والی
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں
تمہارے پیار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں
تری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں