یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم
خوب روئے ہیں لپٹ کر در و دیوار سے ہم
یار کی آنکھ میں نفرت نے ہمیں مار دیا
مرنے والے تھے کہاں یار کی تلوار سے ہم
عشق میں حکم عدولی بھی ہمیں آتی ہے
ٹلنے والے تو نہیں ہیں ترے انکار سے ہم
رنج ہر رنگ کے جھولی میں بھرے ہیں ہم نے
جب بھی گزرے ہیں کسی درد کے بازار سے ہم
بادشاہ شاعر و مجنوں سبھی آتے ہیں یہاں
لگ کے بیٹھے ہیں وصیؔ شاہ کے دربار سے ہم
وصی شاہ کی مزید شاعری
غزل
کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا
کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا
منڈیروں سے چراغوں کو بجھا کر کچھ نہیں ملتا
ہماری سوچ کی پرواز کو روکے نہیں کوئی
غزل
منڈیروں سے چراغوں کو بجھا کر کچھ نہیں ملتا
ہماری سوچ کی پرواز کو روکے نہیں کوئی
تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
تو میں بھی خوش ہوں کوئی اس سے جا کے کہہ دینا
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
غزل
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
انگلیاں پھیر کے بالوں میں سلا دے مجھ کو
جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں
غزل
انگلیاں پھیر کے بالوں میں سلا دے مجھ کو
جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں
دل ہوش سے بیگانہ بیگانے کو کیا کہئے
دل ہوش سے بیگانہ بیگانے کو کیا کہئے
چپ رہنا ہی بہتر ہے دیوانے کو کیا کہئے
کچھ بھی تو نہیں دیکھا اور کوچ کی تیاری
غزل
چپ رہنا ہی بہتر ہے دیوانے کو کیا کہئے
کچھ بھی تو نہیں دیکھا اور کوچ کی تیاری
کیا کہیں تجھ سے کہ کس کس کے کرم ہیں ہم ہیں
کیا کہیں تجھ سے کہ کس کس کے کرم ہیں ہم ہیں
کچھ ترے کچھ تری دنیا کے ستم ہیں ہم ہیں
تو نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں
غزل
کچھ ترے کچھ تری دنیا کے ستم ہیں ہم ہیں
تو نے پوچھا ہے تو احوال بتا دیتے ہیں
تیری جانب اگر چلے ہوتے
تیری جانب اگر چلے ہوتے
ہم نہ یوں در بدر ہوئے ہوتے
ساری دنیا ہے میری مٹھی میں
ہم نہ یوں در بدر ہوئے ہوتے
ساری دنیا ہے میری مٹھی میں