Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ
اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر
سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ
سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں
حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ
کاش اس خواب کی تعبیر کی مہلت نہ ملے
شعلے اگتے نظر آئے مجھے گلزار کے بیچ
ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ
رزق ملبوس مکاں سانس مرض قرض دوا
منقسم ہو گیا انساں انہی افکار کے بیچ
دیکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسنؔ
آج ہنستے ہوئے دیکھا اسے اغیار کے بیچ
31 ویوز 12 Sep 2026 غزل

محسن نقوی کی مزید شاعری

غزل

ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں

ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں
تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں
طلوع صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں
غزل

بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں

بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں
پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
غزل

جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا

جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا
مری سوچ خزاں کی شاخ بنی ترا چہرہ اور گلاب ہوا
برفیلی رت کی تیز ہوا کیوں جھیل میں کنکر پھینک گئی
غزل

عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے
کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا
شعر

کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل

کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
نظم

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں
موسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواں