Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

محسن نقوی
28 Views Sep 12, 2026 0 min read
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنا برگ گل کو خاک شعلے کو دھواں ہونا ہی تھا جب کوئی سمت سفر طے تھی نہ حد رہ گزر اے مرے رہ رو سفر تو رائیگاں ہونا ہی تھا مجھ کو رکنا تھا اسے جانا تھا اگلے موڑ تک فیصلہ یہ اس کے میرے درمیاں ہونا ہی تھا چاند کو چلنا تھا بہتی سیپیوں کے ساتھ ساتھ معجزہ یہ بھی تہہ آب رواں ہونا ہی تھا میں نئے چہروں پہ کہتا تھا نئی غزلیں سدا میری اس عادت سے اس کو بد گماں ہونا ہی تھا شہر سے باہر کی ویرانی بسانا تھی مجھے اپنی تنہائی پہ کچھ تو مہرباں ہونا ہی تھا اپنی آنکھیں دفن کرنا تھیں غبار خاک میں یہ ستم بھی ہم پہ زیر آسماں ہونا ہی تھا بے صدا بستی کی رسمیں تھیں یہی محسنؔ مرے میں زباں رکھتا تھا مجھ کو بے زباں ہونا ہی تھا
Copied!