Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی

محسن نقوی
35 Views Sep 12, 2026 0 min read
لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی میں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھی اسے لبھا نہ سکا میرے بعد کا موسم بہت اداس لگا خال و خد سنوار کے بھی اب ایک پل کا تغافل بھی سہہ نہیں سکتے ہم اہل دل کبھی عادی تھے انتظار کے بھی وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی زمین اوڑھ لی ہم نے پہنچ کے منزل پر کہ ہم پہ قرض تھے کچھ گرد رہ گزار کے بھی مجھے نہ سن مرے بے شکل اب دکھائی تو دے میں تھک گیا ہوں فضا میں تجھے پکار کے بھی مری دعا کو پلٹنا تھا پھر ادھر محسنؔ بہت اجاڑ تھے منظر افق سے پار کے بھی
Copied!