Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں

محسن نقوی
31 Views Sep 12, 2026 0 min read
اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے میں قطرہ قطرہ اسی کی آنکھوں کو پی رہا ہوں تری ہتھیلی پہ کس نے لکھا ہے قتل میرا مجھے تو لگتا ہے میں ترا دوست بھی رہا ہوں کھلی ہیں آنکھیں مگر بدن ہے تمام پتھر کوئی بتائے میں مر چکا ہوں کہ جی رہا ہوں کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں نہ پوچھ مجھ سے کہ شہر والوں کا حال کیا تھا کہ میں تو خود اپنے گھر میں بھی دو گھڑی رہا ہوں ملا تو بیتے دنوں کا سچ اس کی آنکھ میں تھا وہ آشنا جس سے مدتوں اجنبی رہا ہوں بھلا دے مجھ کو کہ بے وفائی بجا ہے لیکن گنوا نہ مجھ کو کہ میں تری زندگی رہا ہوں وہ اجنبی بن کے اب ملے بھی تو کیا ہے محسنؔ یہ ناز کم ہے کہ میں بھی اس کا کبھی رہا ہوں
Copied!