Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو

محسن نقوی
28 Views Sep 12, 2026 0 min read
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو ہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن تو کلیوں کی طرح پھوٹ سر شاخ تمنا خوشبو کی طرح پھیل چمن تا بہ چمن تو نازل ہو کبھی ذہن پہ آیات کی صورت آیات میں ڈھل جا کبھی جبریل دہن تو اب کیوں نہ سجاؤں میں تجھے دیدہ و دل میں لگتا ہے اندھیرے میں سویرے کی کرن تو پہلے نہ کوئی رمز سخن تھی نہ کنایہ اب نقطۂ تکمیل ہنر محور فن تو یہ کم تو نہیں تو مرا معیار نظر ہے اے دوست مرے واسطے کچھ اور نہ بن تو ممکن ہو تو رہنے دے مجھے ظلمت جاں میں ڈھونڈے گا کہاں چاندنی راتوں کا کفن تو
Copied!