Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

جذبے کو زبان دے رہا ہوں

محسن نقوی
28 Views Sep 12, 2026 0 min read
جذبے کو زبان دے رہا ہوں پتھر کو بھی جان دے رہا ہوں اک یاد کو دفن کر کے دل میں دشمن کو امان دے رہا ہوں منصف کا مزاج جانتا ہوں بے سود بیان دے رہا ہوں چہرے پہ سجا کے خون اپنا قاتل کا نشان دے رہا ہوں فصلوں کو تو بارشوں نے لوٹا مٹی کا لگان دے رہا ہوں بہروپ بدل کے آندھیوں کا تنکوں کو اڑان دے رہا ہوں اس شہر میں شعر کہہ کے محسنؔ صحرا میں اذان دے رہا ہوں
Copied!