Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا

محسن نقوی
31 Views Sep 12, 2026 0 min read
کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا بھرا اب بھی مرے گاؤں کا میلہ میں اکیلا بچھڑ کر تجھ سے میں شب بھر نہ سویا کون رویا بجز میرے یہ دکھ بھی کس نے جھیلا میں اکیلا یہ بے آواز بنجر بن کے باسی یہ اداسی یہ دہشت کا سفر جنگل یہ بیلہ میں اکیلا میں دیکھوں کب تلک منظر سہانے سب پرانے وہی دنیا وہی دل کا جھمیلا میں اکیلا وہ جس کے خوف سے صحرا سدھارے لوگ سارے گزرنے کو ہے طوفاں کا وہ ریلا میں اکیلا
Copied!