Wednesday, October 28, 2026
FB
نظم

مرے لیے کون سوچتا ہے

محسن نقوی
32 Views Sep 12, 2026 0 min read
مرے لیے کون سوچتا ہے جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے جدا جدا سب کی صورتیں ہیں سبھی کو اپنی انا کے اندھے کنویں کی تہ میں پڑے ہوئے خواہشوں کے پنجر ہوس کے ٹکڑے حواس ریزے ہراس کنکر تلاشنا ہیں سبھی کو اپنے بدن کی شہ رگ میں قطرہ قطرہ لہو کا لاوا انڈیلنا ہے سبھی کو گزرے دنوں کے دریا کا دکھ وراثت میں جھیلنا ہے مرے لئے کون سوچتا ہے سبھی کی اپنی ضرورتیں ہیں مری رگیں چھلتی جراحت کو کون بخشے شفا کی شبنم مری اداسی کو کون بہلائے کسی کو فرصت ہے مجھ سے پوچھے کہ میری آنکھیں گلاب کیوں ہیں مری مشقت کی شاخ عریاں پر سازشوں کے عذاب کیوں ہیں مری ہتھیلی پہ خواب کیوں ہیں مرے سفر میں سراب کیوں ہیں مرے لیے کون سوچتا ہے سبھی کے دل میں کدورتیں ہیں
Copied!