Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر

محسن نقوی
31 Views Sep 12, 2026 0 min read
کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر اک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پر تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے مجھ کو زنجیریں ملی ہیں جرأت اظہار پر شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر سنگ دل احباب کے دامن میں رسوائی کے پھول میں نے دیکھا ہے نیا منظر فراز دار پر اب کوئی تہمت بھی وجہ کرب رسوائی نہیں زندگی اک عمر سے چپ ہے ترے اصرار پر میں سر مقتل حدیث زندگی کہتا رہا انگلیاں اٹھتی رہیں محسنؔ مرے کردار پر
Copied!