شعر یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا محسن نقوی 28 Views Sep 12, 2026 0 min read یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے Copy Print Share Size محسن نقوی کی مزید شاعری انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل 31 کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ 33 یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی 29 جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک 30 ملتے جلتے اشعار نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں Unknown تمہیں کس نے کہا تھا Unknown اس شان سے لوٹے ہیں گنوا کر دل و جاں ہم Unknown نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر Unknown