Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی

محسن نقوی
28 Views Sep 12, 2026 0 min read
میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی مجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھی اسے جکڑا ہوا تھا زندگی نے سرہانے موت بیٹھی رو رہی تھی کھلا مجھ پر کہ میری خوش نصیبی مرے رستے میں کانٹے بو رہی تھی مجھے بھی نارسائی کا ثمر دے مجھے تیری تمنا جو رہی تھی مرا قاتل مرے اندر چھپا تھا مگر بد نام خلقت ہو رہی تھی بغاوت کر کے خود اپنے لہو سے غلامی داغ اپنے دھو رہی تھی لبوں پر تھا سکوت مرگ لیکن مرے دل میں قیامت سو رہی تھی بجز موج فنا دنیا میں محسنؔ ہماری جستجو کس کو رہی تھی
Copied!