Tuesday, October 27, 2026
FB
نظم

مری گلی کے غلیظ بچو

محسن نقوی
25 Views Sep 12, 2026 0 min read
مری گلی کے غلیظ بچو تم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھو تمہاری آنکھیں اداسیوں سے بھری ہوئی ہیں ازل سے جیسے ڈری ہوئی ہیں تمہارے ہونٹوں پہ پیڑھیوں کی جمی ہوئی تہہ یہ کہہ رہی ہے حیات کی آب جو پس پشت بہہ رہی ہے تمہاری جیبیں منافقت سے اٹی ہوئی ہیں سبھی قمیصیں پھٹی ہوئی ہیں تمہاری پھیکی ہتھیلیوں کی بجھی لکیریں بقا کی ابجد سے اجنبی ہیں تمہاری قسمت کی آسمانی نشانیاں اب خطوط وحدانیت کا مقسوم ہو رہی ہیں نظر سے معدوم ہو رہی ہیں مری گلی کے غلیظ بچو تمہارے ماں باپ نے تمدن کا قرض لے کر تمہاری تہذیب بیچ دی ہے تمہارا استاد اپنی ٹوٹی ہوئی چھڑی لے کے چپ کھڑا ہے کہ اس کے سوکھے گلے میں نان جویں کا ٹکڑا اڑا ہوا ہے مری گلی کے غلیظ بچو تمہارے میلے بدن کی ساری غلاظتیں اب گئے زمانوں کے ارمغاں ہیں تمہارے ورثے کی داستاں ہیں انہیں سنبھالو کہ آنے والا ہر ایک لمحہ تمہارے جھڑتے ہوئے پپوٹوں سے جانے والے دنوں دنوں کی اتار لے گا مری گلی کے غلیظ بچو ضدوں کو چھوڑو قریب آؤ رتوں کی نفرت کو پیار سمجھو خزاں کو رنگ بہار سمجھو غلاظتوں کو ادھار سمجھو
Copied!