Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں

محسن نقوی
29 Views Sep 12, 2026 0 min read
سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں اس بھرے شہر میں رائیگاں ایک میں وصل کے شہر کی روشنی ایک تو ہجر کے دشت میں کارواں ایک میں بجلیوں سے بھری بارشیں زور پر اپنی بستی میں کچا مکاں ایک میں حسرتوں سے اٹے آسماں کے تلے جلتی بجھتی ہوئی کہکشاں ایک میں مجھ کو فارغ دنوں کی امانت سمجھ بھولی بسری ہوئی داستاں ایک میں رونقیں شور میلے جھمیلے ترے اپنی تنہائی کا رازداں ایک میں ایک میں اپنی ہی زندگی کا بھرم اپنی ہی موت پر نوحہ خواں ایک میں اس طرف سنگ باری ہر اک بام سے اس طرف آئنوں کی دکاں ایک میں وہ نہیں ہے تو محسنؔ یہ مت سوچنا اب بھٹکتا پھروں گا کہاں ایک میں
Copied!