Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے

محسن نقوی
25 Views Sep 12, 2026 0 min read
ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے مثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے تمام شب جہاں جلتا ہے اک اداس دیا ہوا کی راہ میں اک ایسا گھر بھی آتا ہے وہ مجھ کو ٹوٹ کے چاہے گا چھوڑ جائے گا مجھے خبر تھی اسے یہ ہنر بھی آتا ہے اجاڑ بن میں اترتا ہے ایک جگنو بھی ہوا کے ساتھ کوئی ہم سفر بھی آتا ہے وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے جہاں لہو کے سمندر کی حد ٹھہرتی ہے وہیں جزیرۂ لعل و گہر بھی آتا ہے چلے جو ذکر فرشتوں کی پارسائی کا تو زیر بحث مقام بشر بھی آتا ہے ابھی سناں کو سنبھالے رہیں عدو میرے کہ ان صفوں میں کہیں میرا سر بھی آتا ہے کبھی کبھی مجھے ملنے بلندیوں سے کوئی شعاع صبح کی صورت اتر بھی آتا ہے اسی لیے میں کسی شب نہ سو سکا محسنؔ وہ ماہتاب کبھی بام پر بھی آتا ہے
Copied!