Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں

محسن نقوی
34 Views Sep 12, 2026 0 min read
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں میں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوں مرے گھر کا دریچہ پوچھتا ہے میں سارا دن کہاں پھرتا رہا ہوں مجھے میرے سوا سب لوگ سمجھیں میں اپنے آپ سے کم بولتا ہوں ستاروں سے حسد کی انتہا ہے میں قبروں پر چراغاں کر رہا ہوں سنبھل کر اب ہواؤں سے الجھنا میں تجھ سے پیشتر بجھنے لگا ہوں مری قربت سے کیوں خائف ہے دنیا سمندر ہوں میں خود میں گونجتا ہوں مجھے کب تک سمیٹے گا وہ محسنؔ میں اندر سے بہت ٹوٹا ہوا ہوں
Copied!