Saturday, September 26, 2026
FB
انضمام الحق
کھلاڑی

انضمام الحق

Inzamam-ul-Haq
پیدائش: 03 Mar 1970 ملتان، پنجاب، پاکستان
0 ویوز
2026 شامل شد

تعارف

ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز



انضمام الحق پاکستان کے معروف سابق بین الاقوامی کرکٹر، بلے باز اور کپتان ہیں۔ وہ 3 مارچ 1970ء کو ملتان، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے تھے اور ان کا تعلق پاکستان کے علاوہ پاکستان اے، پاکستان انڈر 19، ملتان اور دیگر ڈومیسٹک ٹیموں سے بھی رہا۔

انضمام الحق نے نوجوانی میں کرکٹ کی طرف توجہ دی اور جلد ہی اپنی بیٹنگ کی صلاحیتوں کے باعث نمایاں ہونے لگے۔ ان کے کھیل کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ بظاہر پرسکون انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے بڑی اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ بعد میں یہی انداز ان کی بین الاقوامی شناخت کا حصہ بن گیا۔

پاکستان ٹیم میں آمد



انضمام الحق نے نومبر 1991ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی جانب سے ون ڈے بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ریکارڈ میں ان کے ابتدائی ون ڈے میچز نومبر 1991ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف درج ہیں۔

بین الاقوامی کرکٹ میں ان کی آمد کو سب سے زیادہ شہرت 1992ء کے عالمی کپ میں ملی۔ وہ اس وقت صرف 22 برس کے تھے اور ٹورنامنٹ کے آغاز سے چند ماہ پہلے ہی قومی ٹیم میں آئے تھے۔

1992ء کا عالمی کپ



1992ء کا عالمی کپ انضمام الحق کے کیریئر کا اہم ترین ابتدائی مرحلہ ثابت ہوا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں انہوں نے صرف 37 گیندوں پر 60 رنز کی فیصلہ کن اننگز کھیلی۔ پاکستان نے یہ میچ جیت کر فائنل میں جگہ بنائی۔

فائنل میں انگلینڈ کے خلاف بھی انضمام نے 42 رنز بنائے۔ پاکستان نے میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں فائنل جیت کر پہلی مرتبہ عالمی کپ اپنے نام کیا۔ یوں انضمام الحق بہت کم عمر میں پاکستان کے عالمی کپ فاتح اسکواڈ کا حصہ بن گئے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں مقام



عالمی کپ کے بعد انضمام الحق نے ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اپنی جگہ مضبوط کی۔ انہوں نے انگلینڈ کے دورے کے دوران ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور بعد میں پاکستان کے اہم ترین مڈل آرڈر بلے بازوں میں شمار ہونے لگے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 8,829 رنز بنائے، جن میں 25 سنچریاں اور 46 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کی ٹیسٹ بیٹنگ اوسط 50.16 رہی۔

ان کے ٹیسٹ کیریئر کی کئی اننگز مشکل حالات میں پاکستان کے لیے اہم ثابت ہوئیں۔ 2002ء میں ملتان میں بنگلہ دیش کے خلاف ان کی 138 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز خاص طور پر نمایاں ہے۔ پاکستان نے 262 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 164 رنز پر سات وکٹیں گنوا دی تھیں، لیکن انضمام کی اننگز نے ٹیم کو کامیابی تک پہنچایا۔

نیوزی لینڈ کے خلاف 329 رنز



انضمام الحق کے ٹیسٹ کیریئر کی سب سے بڑی انفرادی اننگز 329 رنز تھی، جو انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور میں بنائی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق اس وقت یہ کسی نمبر چار کے بلے باز کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑا اسکور تھا۔

اس اننگز نے ان کی طویل فارمیٹ کی بیٹنگ کی صلاحیت کو نمایاں کیا۔ وہ دفاعی شاٹس کے ساتھ ساتھ ضرورت کے مطابق جارحانہ اسٹروکس کھیلنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور لمبی اننگز کو بڑی سنچری میں تبدیل کرنے کے لیے مشہور ہوئے۔

ون ڈے کرکٹ میں ریکارڈ



انضمام الحق کا ون ڈے کیریئر بھی غیر معمولی طور پر طویل اور کامیاب رہا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق انہوں نے 348 اننگز میں 11,701 رنز بنائے، جن میں 10 سنچریاں اور 83 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کی ون ڈے بیٹنگ اوسط 39.53 اور اسٹرائیک ریٹ 74.20 رہا۔

پاکستان کی جانب سے ون ڈے کرکٹ میں 10 ہزار سے زیادہ رنز بنانے والے وہ واحد بلے باز رہے ہیں۔ ان کا مجموعی ون ڈے اسکور پاکستانی کرکٹ میں ان کی مستقل مزاجی اور طویل بین الاقوامی کیریئر کی اہم علامت ہے۔

پاکستان کی کپتانی



انضمام الحق نے 2003ء میں پاکستان کی مستقل کپتانی سنبھالی اور 2007ء تک مختلف فارمیٹس میں قومی ٹیم کی قیادت کی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق انہوں نے 31 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی کپتانی کی، جن میں 11 فتوحات، 11 شکستیں اور 9 ڈرا شامل تھے۔ ون ڈے میں انہوں نے 87 میچوں میں قیادت کی، جن میں پاکستان نے 51 میچ جیتے اور 33 میں شکست ہوئی۔

وہ پاکستان کے پہلے ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کپتان بھی تھے۔ 2006ء میں انگلینڈ کے خلاف برسٹل میں پاکستان نے اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچ کھیلا اور انضمام الحق نے ٹیم کی قیادت کی۔ پاکستان نے یہ میچ پانچ وکٹوں سے جیتا۔

2005ء کا دورۂ بھارت



انضمام الحق کی کپتانی میں پاکستان نے 2005ء میں بھارت کا دورہ کیا۔ ٹیسٹ سیریز کے آخری میچ میں انضمام نے 184 رنز کی بڑی اننگز کھیلی۔ یہ ان کا 100واں ٹیسٹ بھی تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق اس دورے میں پاکستان نے ون ڈے سیریز 4-2 سے جیتی اور ٹیسٹ سیریز برابر رہی۔

2006ء کا اوول واقعہ



2006ء میں انگلینڈ کے خلاف اوول ٹیسٹ کے دوران گیند کی حالت سے متعلق تنازع سامنے آیا۔ امپائرز کی جانب سے پاکستان پر گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا الزام لگاتے ہوئے انگلینڈ کو پانچ پنالٹی رنز دیے گئے اور پاکستان نے میدان میں واپس آنے سے انکار کیا۔ بعد میں الزامات اور پانچ رنز کی سزا واپس لے لی گئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق انضمام نے اس موقع پر ٹیم کے موقف کی نمائندگی کی۔

یہ واقعہ ان کے بطور کپتان کیریئر کے متنازع اور زیرِ بحث واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس معاملے کی مختلف فریقوں کی جانب سے مختلف تشریحات سامنے آئیں، اس لیے اسے بیان کرتے ہوئے سرکاری اور معاصر ریکارڈ کو بنیادی حیثیت دینا ضروری ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ



انضمام الحق نے 2007ء میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی۔ ان کا تقریباً دو دہائیوں پر محیط بین الاقوامی کیریئر پاکستان کرکٹ کے ایک اہم دور پر مشتمل تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے افغانستان کے کوچ کے طور پر مختصر عرصے کام کیا اور بعد میں پاکستان کے بلے بازوں کو بھارت کے 2012-13ء کے دورے کی تیاری میں بھی مدد دی۔

بعد ازاں انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ میں چیف سلیکٹر کے طور پر بھی ذمہ داریاں انجام دیں۔ پی سی بی کے مطابق وہ دو مختلف ادوار میں چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔

انضمام الحق کا کرکٹ ورثہ



انضمام الحق کا نام پاکستانی کرکٹ میں بنیادی طور پر ایک تجربہ کار مڈل آرڈر بلے باز، عالمی کپ فاتح کھلاڑی اور کپتان کے طور پر محفوظ ہے۔ ان کے ٹیسٹ میں 8,829 اور ون ڈے میں 11,701 رنز ان کے طویل بین الاقوامی کیریئر کی اہم شماریاتی علامت ہیں۔

1992ء کے عالمی کپ سیمی فائنل کی اننگز، عالمی کپ فائنل میں 42 رنز، نیوزی لینڈ کے خلاف 329، بھارت کے خلاف 184 اور ون ڈے میں 11,701 رنز ان کے کرکٹ سفر کے نمایاں ابواب ہیں۔ ان کی بیٹنگ کا انداز نسبتاً پرسکون تھا، لیکن وہ بڑے میچوں اور مشکل حالات میں طویل اور فیصلہ کن اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

کارنامے

1992ء کا عالمی کپ



انضمام الحق پاکستان کی 1992ء کی عالمی کپ فاتح ٹیم کا حصہ تھے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں ان کی 37 گیندوں پر 60 رنز کی اننگز نے پاکستان کو فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ فائنل میں انگلینڈ کے خلاف انہوں نے 42 رنز بنائے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں 8,829 رنز



انضمام الحق نے پاکستان کے لیے ٹیسٹ کرکٹ میں 8,829 رنز بنائے۔ ان کے نام 25 ٹیسٹ سنچریاں اور 46 نصف سنچریاں ہیں، جبکہ ٹیسٹ بیٹنگ اوسط 50.16 رہی۔

ون ڈے میں 11,701 رنز



انہوں نے 348 ون ڈے اننگز میں 11,701 رنز بنائے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق وہ پاکستان کے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے ون ڈے کرکٹ میں 10 ہزار سے زیادہ رنز بنائے۔ ان کے ون ڈے ریکارڈ میں 10 سنچریاں اور 83 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

نیوزی لینڈ کے خلاف 329 رنز



لاہور میں نیوزی لینڈ کے خلاف 329 رنز کی اننگز انضمام الحق کے ٹیسٹ کیریئر کی سب سے بڑی انفرادی اننگز ہے۔ پی سی بی کے مطابق اس وقت یہ ٹیسٹ میں نمبر چار کے بلے باز کا سب سے بڑا اسکور تھا۔

100واں ٹیسٹ اور 184 رنز



2005ء میں بھارت کے خلاف بنگلورو ٹیسٹ انضمام الحق کا 100واں ٹیسٹ تھا۔ انہوں نے اسی میچ میں 184 رنز بنائے۔

پاکستان کی کپتانی



انضمام الحق نے پاکستان کی تینوں بین الاقوامی فارمیٹس میں قیادت کی۔ انہوں نے 31 ٹیسٹ اور 87 ون ڈے میں کپتانی کی، جبکہ 2006ء میں پاکستان کے پہلے ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچ میں بھی قومی ٹیم کی قیادت کی۔

مختلف کرکٹ ذمہ داریاں



کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد انضمام الحق نے کوچنگ اور کرکٹ انتظامی ذمہ داریوں میں بھی حصہ لیا۔ وہ افغانستان کے کوچ رہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر کے طور پر بھی دو ادوار میں خدمات انجام دیں۔

مشہور کام

1992ء عالمی کپ سیمی فائنل کی اننگز



نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں 37 گیندوں پر 60 رنز انضمام الحق کی سب سے یادگار ابتدائی بین الاقوامی اننگز میں شمار ہوتی ہے۔ اس کارکردگی نے انہیں عالمی سطح پر نمایاں کیا اور پاکستان کو فائنل تک پہنچنے میں مدد ملی۔

نیوزی لینڈ کے خلاف 329 رنز



لاہور میں نیوزی لینڈ کے خلاف 329 رنز کی اننگز ان کے ٹیسٹ کیریئر کی سب سے بڑی انفرادی کارکردگی ہے۔ اس اننگز نے طویل فارمیٹ میں ان کی بڑی اننگز کھیلنے کی صلاحیت کو نمایاں کیا۔

بھارت کے خلاف 184 رنز



2005ء میں بھارت کے خلاف 100ویں ٹیسٹ میں 184 رنز کی اننگز انضمام الحق کے کیریئر کی ایک نمایاں کارکردگی ہے۔ اسی دورے میں پاکستان نے ون ڈے سیریز 4-2 سے جیتی۔

ون ڈے کی طویل کامیابیاں



انضمام الحق کی ون ڈے کرکٹ میں 11,701 رنز پر مشتمل مجموعی کارکردگی ان کے کیریئر کا ایک اہم حصہ ہے۔ ان کے 10 سنچریوں اور 83 نصف سنچریوں کے ریکارڈ نے انہیں پاکستان کے نمایاں ون ڈے بلے بازوں میں مستقل جگہ دی۔

بطور کپتان پاکستان کی قیادت



2003ء سے 2007ء تک انضمام الحق نے پاکستان کی قیادت کی اور تینوں فارمیٹس میں ٹیم کی نمائندگی کی۔ 2006ء میں وہ پاکستان کے پہلے ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کپتان بھی بنے۔

کرکٹ کے بعد خدمات



ریٹائرمنٹ کے بعد کوچنگ اور سلیکشن کے شعبے میں ان کی سرگرمیاں بھی ان کے کرکٹ سفر کا حصہ رہیں۔ افغانستان کے کوچ کے طور پر کام کرنے کے بعد انہوں نے پاکستان کے کھلاڑیوں کی تیاری میں بھی کردار ادا کیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سنبھالی۔
تاریخ پیدائش
03 Mar 1970
جائے پیدائش
ملتان، پنجاب، پاکستان