Friday, September 18, 2026
FB
غزل

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی
جو کی ہے ماں نے تو پھر بد دعا سے مر جائیں
یہ احتجاج سمندر کے دم کو کافی ہے
کسی کنارے پہ دو چار پیاسے مر جائیں
فسادیوں کو میں اس شرط پر رہا کروں گا
کہ فاختہ کے پروں کی ہوا سے مر جائیں
تو اپنے لہجے کی رقت کو تھوڑا کم کر دے
فقیر لوگ نہ تیری صدا سے مر جائیں
اٹھا کے پھرتے ہیں ہم آپ صرف نام تو لیں
قسم سے آپ تو کاسے کی کا سے مر جائیں
7 ویوز 13 Sep 2026 غزل

راکب مختار کی مزید شاعری

رباعی

سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے

سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
غزل

یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو

یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو
مری مٹھی میں آئیں دو جہاں آہستہ آہستہ
علی کے نام پر لہجے کی تیزی مت دکھا ورنہ
غزل

حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے

حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے
میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست
غزل

ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا

ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
قفس کو کھولنے والا نہیں دکھائی دیا
میں روشنی کے خدوخال دیکھ آیا ہوں
غزل

خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے

خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
بس دل پہ ایک راج کماری کا راج ہے
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
غزل

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے

شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر