ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
قفس کو کھولنے والا نہیں دکھائی دیا
میں روشنی کے خدوخال دیکھ آیا ہوں
وہ سامنے تھا مگر چار سو دکھائی دیا
جو بچہ بھوک سے رو رو کے مرنے والا تھا
وہ کھلکھلا کے ہنسا تو خدا سنائی دیا
او بے وفا تری نسلیں خراب ہو جائیں
مجھ ایسے شخص کو الزام بے وفائی دیا
وہ خامشی تھی کہ لو کو زبان مل گئی تھی
مجھے سکوت میں جلتا "دیا" سنائی دیا
تو تختٍ شام کا حامی میں کربلا کا فقیر
تری تلاش اندھیرے مری کمائ "دیا"
راکب مختار کی مزید شاعری
غزل
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
غزل
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
اللہ کی زمیں پہ اگر کربلا نہ ہو
غازی سا باوفا ہو اگر سب کا پیشوا
غزل
اللہ کی زمیں پہ اگر کربلا نہ ہو
غازی سا باوفا ہو اگر سب کا پیشوا
یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو
یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو
مری مٹھی میں آئیں دو جہاں آہستہ آہستہ
علی کے نام پر لہجے کی تیزی مت دکھا ورنہ
شعر
مری مٹھی میں آئیں دو جہاں آہستہ آہستہ
علی کے نام پر لہجے کی تیزی مت دکھا ورنہ
دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
دلاسا دیتے ہوئے لوگ کیا سمجھ پاتے
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
شعر
ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
شام غریباں دیکھ رہے تھے یہ امتی
شام غریباں دیکھ رہے تھے یہ امتی
خیموں میں کوئی اور محمد بچا نہ ہو
شعر
خیموں میں کوئی اور محمد بچا نہ ہو
وہ بادشاہ مولا علی ع کا غلام تھا
وہ بادشاہ مولا علی ع کا غلام تھا
خیرات کی جگہ مرے کاسے میں تاج ہے
خیرات کی جگہ مرے کاسے میں تاج ہے