سیدانیوں نے گھر سے جو باہر قدم رکھے
عباس کے جگر پہ تھے مٹی پہ کم رکھے
دشمن جسے ڈرانے کو آتا ہے خواب میں
وہ شخص رات اپنے سرہانے علم رکھے
راکب مختار کی مزید شاعری
غزل
سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
اللہ کی زمیں پہ اگر کربلا نہ ہو
غازی سا باوفا ہو اگر سب کا پیشوا
غزل
اللہ کی زمیں پہ اگر کربلا نہ ہو
غازی سا باوفا ہو اگر سب کا پیشوا
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
غزل
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
غزل
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
قفس کو کھولنے والا نہیں دکھائی دیا
میں روشنی کے خدوخال دیکھ آیا ہوں
غزل
قفس کو کھولنے والا نہیں دکھائی دیا
میں روشنی کے خدوخال دیکھ آیا ہوں
درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے
درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے
جو اپنی آنکھوں میں اشکوں کا سلسلہ کوئی ہے
امام سجدے میں تھے اور سارے نبیوں سے
شعر
جو اپنی آنکھوں میں اشکوں کا سلسلہ کوئی ہے
امام سجدے میں تھے اور سارے نبیوں سے
اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو
اب تو آیا یقیں کہ بیٹی کو
لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں
لوگ کیوں مسئلہ سمجھتے ہیں